مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 506 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 506

مکتوبات احمد محبتی اخویم ۵۰۶ مکتوب جلد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ میں ایک مدت سے بیماریوں میں رہا اور اب بھی ان کا بقیہ باقی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اپنے ہاتھ سے جواب لکھوں مگر بباعث بیماری کے لکھ نہ سکا۔ دیتا ہوں آپ کے پہلے خط کا ما حصل جس قدر مجھ کو یاد ہے یہ ہے کہ میری نسبت آپ نے ۔۔۔ کی جماعت کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا تھا کہ روپیہ کے خرچ میں بہت اسراف ہوتا ہے ۔ آپ اپنے پاس روپیہ جمع نہ رکھیں اور یہ رو پید ایک کمیٹی کے سپرد ہو جو حسب ضرورت خرچ کیا کریں اور یہ بھی ذکر تھا کہ اسی روپیہ میں سے باغ کے چند خدمتگار بھی روٹیاں کھاتے ہیں اور ایسا ہی اور کئی قسم کے اسراف کی طرف اشارہ تھا جن کو میں سمجھتا ہوں ۔ آپ نے اپنی نیک نیتی سے جو کچھ لکھا بہتر لکھا۔ میں ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کار دیکھوں ۔ میں آپ کو خدا تعالیٰ کی قسم د۔ جس کی قسم کو پورا کرنا مومن کا فرض ہے اور اس کے خلاف ورزی معصیت ہے کہ آپ ۔۔۔۔۔۔ کی تمام جماعت کو اور خصوصاً ایسے صاحبوں کو جن کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا ہے ، بہت صفائی سے اور کھول کر سمجھا دیں کہ اس کے بعد ہم ۔۔۔ کا چندہ بکلی بند کرتے ہیں اور ان پر حرام ہے اور قطعاً حرام ہے اور مثل گوشت خنزیر ہے کہ ہمارے کسی سلسلہ کی مدد کے لیے اپنی تمام زندگی تک ایک حربہ بھی بھیجیں ۔ ایسا ہی ہر شخص جو ایسے اعتراض دل میں مخفی رکھتا ہے اس کو بھی ہم یہی قسم دیتے ہیں ۔ یہ کام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جس طرح وہ میرے دل میں ڈالتا ہے خواہ وہ کام لوگوں کی نظر میں صحیح ہے یا غیر صحیح درست ہے یا غلط میں اسی طرح کرتا ہوں ۔ پس جو شخص کچھ مدد دے کر مجھے اسراف کا طعنہ دیتا ہے وہ میرے پر حملہ کرتا ہے ایسا حملہ قابلِ برداشت نہیں ۔ اصل تو یہ ہے کہ مجھے کسی کی بھی پروا نہیں ۔ اگر تمام جماعت کے لوگ متفق ہو کر چندہ بند کر دیں یا مجھ سے منحرف ہو جائیں تو وہ جس نے مجھ سے وعدہ کیا ہوا ہے وہ اور جماعت