مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 505 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 505

مکتوبات احمد ۵۰۵ جلد پنجم پس اس جگہ خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ تم یہ دعا کرو کہ ہمیں الہام ہو بلکہ یہ فرمایا ہے کہ تم یہ دعا کرو کہ راہ راست ہمیں نصیب ہو ۔ ان لوگوں کے راہ جو آخر کار خدا تعالیٰ کے انعام سے مشرف ہو گئے ۔ بندہ کو اس سے کیا مطلب ہے کہ وہ الہام کا خواہشمند ہو اور نہ بندہ کی اس میں کچھ فضیلت ہے بلکہ یہ تو خدا تعالیٰ کا فعل ہے نہ بندہ کا کوئی عمل صالح تا اس پر اجر کی توقع ہو اور پھر جبکہ انسان کے ساتھ یہ آفتیں بھی لگی ہوئی ہیں کہ کبھی حدیث النفس میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اسی کو الہام سمجھنے لگتا ہے اور کبھی شیطان کے پنجہ میں پھنس جاتا ہے اور اسی کو الہام سمجھنے لگتا ہے ۔ پس کس قدر یہ خطر ناک راہ ہے۔ بغیر خدا کی زبردست شہادتوں کے ایسے الہام کب قبول کے لائق ہیں ۔ سخت بد قسمت وہ لوگ ہوتے ہیں کہ کبھی اپنی حالت کا مطالعہ نہیں کرتے کہ کن کن باتوں میں وہ خدا کے نزدیک پاس یافتہ ٹھہر سکتے ہیں اور کن کن آزمائشوں کے بعد ان کا صدق خدا کے نزدیک ثابت ہو سکتا ہے ۔ ان سخت گھاٹیوں کے طے کرنے سے پہلے ہی الہام کے خواہشمند ہو جاتے ہیں ۔ اس سے پر ہیز کرنا چاہیئے اور توبہ اور استغفار میں مشغول ہونا چاہیئے ۔ الہام بغیر ۔ پورے تقویٰ اور پوری جاں فشانی اور پوری محویت کے طبل تہی ہے اور سخت خطرناک اور زہر قاتل ہے انسان جس سے قریب ہوتا ہے اسی کی آواز سنتا ہے ۔ پس پہلے خدا سے قریب ہو جاؤ اور شیطان سے دور تا خدا کی آواز سنو ☆ خاکسار مرزا غلام احمد بدر نمبر ۴۷ جلد ۶ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۷ ء صفحه ۸