مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 480

مکتوبات احمد لد ٠٧ جلد پنجم مکتوب بنام لالہ بھیم سین صاحب ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سورۃ فاتحہ کا جواً کوسورۃ فاتحہ کا جو اُم الکتب ہے خاص علم دیا گیا تھا۔ آ، ہے خاص علم دیا گیا تھا۔ آپ تمام مذاہب باطلہ کی تردید اسی ایک سورۃ سے کرنے کی معجز نما قدرت رکھتے۔ ما قدرت رکھتے تھے۔ اس کا نمونہ آپ کی تقریروں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔ اور براہین احمدیہ میں خصوصیت سے اس امر کو دکھایا گیا ہے۔ لالہ بھیم سین صاحب سے اس سیرۃ کے پڑھنے والے واقف و آگاہ ہو چکے ہیں۔ لالہ بھیم سین صاحب ایک نیک دل اور خوش اخلاق انسان تھے۔ حضرت مسیح موعود سے آپ کو ایک محبت اور وداد کا تعلق تھا۔ ان کے پرانے کاغذات میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر عالی جناب لالہ کنورسین صاحب ایم ۔ اے۔ پرنسپل لا کالج خلف الرشید لالہ بھیم سین آنجہانی کی کرم فرمائی سے مجھے ملی ہے جو آپ نے لالہ بھیم سین صاحب کو لکھی تھی۔ اس تحریر کے مطالعہ سے معلوم ہوگا۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مخاطب دوست کی کس قدر عزت اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی تعریف کرتے ہیں اور اس سلسلہ میں آپ کس طرح پر ان کو اسلام کے اعلیٰ اور اکمل مذہب ہونے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔۔۔۔ یہ مضمون بقول قبله والد ماجد مرزا صاحب نے ان ایام میں اپنے دوست اور میرے والد صاحب کی خاطر لکھا تھا۔ جب کہ ہر دو صاحب سیالکوٹ میں مقیم تھے اور علاوہ مشاغل قانونی وعلمی کے اخلاقی و روحانی مسائل پر بھی غور و بحث کیا کرتے تھے۔ اس سے اس زمانہ کے مشاغل کا عام پتہ ملتا ہے بہر حال وہ مضمون یہ ہے ) هذا كِتَابٌ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى قَائِلِهِ وَ قَابِلِهِ (1) حمد را با تو نسبتیست بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ درست بر در هر که رفت بردر تست (۲) اما بعد مخاطب من کسی است که طالب حقیقت است و بر صدق و عدل قائم مے ماند۔ (۳) و در محافل مغرور و تعصب نمی نشیند و بر سحر و بریخن منزل و استہزا گوش نمے نہد۔ و بر صلاح (۴) مکاران نمی رود و آرزومند پیروی اراده خداست - بدان ارشدک اللہ تعالیٰ ۔ (۵) که در دفاتر قوم هنود حق پژوهی و حقیقت گزاری بس نایاب وہم پرستی نموده اند وافسانہ ہائے (۶) نابوده بر نوشته - گرو ہے برآنند که ایزد بیہماں را انبار نمی گیریم ۔ (۷) آنکه بر هما وبشن و مہادیو را خدا میدانیم از میں خیال است که ایز دبیچوں بدیں (۸) سه پیکر مجسم شد و غبارے بدامن وحدت او نه نشت و آنکه بیگانگان طعن