مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 479
مکتوبات احمد ۴۷۹ جلد پنجم کہ وہ اپنا صحیح اور پورا پتہ لکھ کر مجھے دیں تا جواب کے پہنچنے میں کوئی دقت پیش نہ آوے یعنی لاہور میں کہاں اور کسی محلہ میں رہتے ہیں اور پورا پتہ کیا ہے مکرر یہ کہ آپ کے اطمینان کے لئے میں کہاں اور کس محلہ میں رہتے ہیں او جیسا کہ رات کو آپ نے تقاضا کیا تھا۔ میں یہ بھی وعدہ کرتا ہوں کہ اگر آپ میرے لکھنے پر قادیان میں آویں اور میری کسی مجبوری سے بغیر مباحثہ کے واپس جاویں تو میں دوطرفہ آپ کو لاہور کا کرایہ دوں گا اور جو رات کو آپ کو مبلغ تین روپیہ دیئے گئے ہیں اس میں آپ ہر گز یہ خیال نہ کریں کہ کسی حرجہ کے رو سے آپ کا یہ حق تھا کیونکہ جس حالت میں ہم نے اپنی گرہ سے خرچ اٹھا کر آپ کو روکنے کے لئے لاہور میں تار بھیج دیا تھا اور تین خط بھی بھیجے پھر اس صورت میں آپ کا یہ نقصان آپ کے ذمہ تھا مگر میں نے محض مذہبی مروت کے طور پر آپ کو تین روپے دیئے ورنہ کچھ آپ کا حق نہ تھا ایسا ہی اس وقت تک کہ آپ کی نیت میں کوئی صریح تعصب مشاہدہ نہ کروں ایسا ہی ہر ایک دفعہ بغیر آپ کے کسی حق کے کرایہ دے سکتا ہوں محض ایک نادار خیال کر کے نہ کسی اور وجہ سے ی ۶ اکتوبر ۱۹۰۳ء الراقم خاکسار میرزا غلام احمد “ 66 یہ رقعہ لے کر پھر بھی میاں گل محمد کو قرار نہ آیا اور جب کہ ظہر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو کہنے لگے جو الفاظ میں ایزاد کرانا چاہتا ہوں وہ کر دو۔ مگر خدا کے مسیح نے اسے مناسب نہ جانا اور آخر میاں گل محمد صاحب رخصت ہوئے ۔ بدر نمبر ۳۹ جلد ۲ مورخه ۱۶ راکتو بر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۰۱