مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 478
مکتوبات احمد ۴۷۸ جلد پنجم مکتوب بنام میاں گل محمد صاحب عیسائی آج کے دن میاں گل محمد صاحب نے پھر ایک حجت کھڑی کی اور حضرت اقدس کی تحریر لینے کی کوشش کی تا کہ لاہور میں وہ پیش کر سکیں چونکہ حضرت اقدس کتاب تذکرۃ الشہادتین کی تصنیف میں مصروف تھے اور آپ کو بالکل فرصت نہ تھی آپ نے مفتی محمد صادق صاحب کو جنہوں نے میاں گل محمد صاحب سے ملاقات اور گفتگو میں کمال انٹرسٹ لیا تھا فرمایا کہ وہ جواب دیویں ۔ مگر میاں گل محمد صاحب کس کی مانتے تھے آخران کے بڑے اصرار سے حضرت اقدس نے پھر ان کو ایک تحریر دی جس کی نقل ہم ذیل میں کرتے ہیں ۔ نقل رقعہ منجانب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بنام میاں گل محمد صاحب عیسائی بشر وا خیر و عافیت اور نہ پیش آنے کسی مجبوری کے میری طرف سے یہ وعدہ ہے کہ اگر ۲۰ راکتو بر ۱۹۰۳ء کے بعد میاں گل محمد صاحب اس بات کی مجھے اطلاع دیں کہ وہ قادیان میں آنے کے لئے طیار ہیں تو میں ان کو بلالوں گا تا جو سوال کرنا ہو وہ کریں ۔ سوال صرف ایک ہوگا اور فریقین کے لئے جواب اور جواب الجواب دینے کے لئے چار دن کی مہلت ہوگی اور انہی چار دنوں کے اندر میرا بھی حق ہوگا کہ یسوع مسیح اور اس کی خدائی کی نسبت یا انجیل اور تو رات کے تناقض کی نسبت جو عیسائیوں کے موجودہ عقیدہ سے پیدا ہوتا ہے کوئی سوال کروں ایسا ہی ان کا حق ہو گا کہ وہ جواب دیں پھر میرا حق ہوگا کہ جواب الجواب دوں اور یہ امر ضروری ہوگا کہ میاں گل محمد صاحب قادیان سے جانے سے پہلے مجھے اطلاع دیں کہ وہ اسلام یا قرآن شریف پر کیا اعتراض کرنا چاہتے ہیں تا ہم بھی دیکھیں کہ واقعی وہ اعتراض ایسا ہے کہ یسوع مسیح کی انجیل یا اس کی چال چلن یا اس کے نشانوں پر وارد نہیں ہوتا گو مجھے بہت افسوس ہے کہ ایسے لوگوں کو مخاطب کروں کہ اب بھی اور اس زمانہ میں اس شخص کو جس کے انسانی ضعف اس کی اصل حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں خدا کر کے مانتے ہیں مگر ہمارا فرض ہے کہ ذلیل سے ذلیل مذہب والوں کو بھی ان کے چیلنج کے وقت رد نہ کریں اس لئے ہم رد نہیں کرتے ۔ بالآخر یہ ضروری ہے