مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 465
مکتوبات احمد ۴۶۵ جلد پنجم سے جمہ ہے۔ اس کا جسم آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور وہ آسمان پر زندہ ہے خصوصاً جب کہ اس کو توفی ہوئے بھی اتنی مدت گزر گئی ہو جس میں احتمال اس کی حیات کا باقی نہیں ہو سکتا تو قانون گو ہو تو یا تحصیلدار صرف آپ کے اس اظہار کا جواب آپ کو کیا دیویں گے ۔ میں آپ کی نسبت تو کچھ نہیں کہتا مگر کسی دوسرے پٹواری کی نسبت کہتا ہوں کہ تحصیلدار صاحب اس کو پاگل قرار دے کر رپورٹ اس کی برطرفی عہدہ پٹوار گری سے کرادیو یں گے ۔ اب آپ کو زیادہ بحث میں پڑنے کی بھی ضرورت نہ رہی اور اپنے ہی کاغذات سے لفظ متوفی کی تحقیق ہو گئی ۔ نہ ہلدی لگی نہ پھٹکری ۔ آیت دوم مندرجہ خط دوسری آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ موت سے آپ کو یہ شبہ نہیں ہوا ہے کہ حضرت عیسی جسم عنصری کے ساتھ اب تک آسمان پر زندہ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ دین اسلام پر جو ہزار ہا آ فتیں وارد ہو رہی ہیں ان کا تماشہ دیکھ رہے ہیں اور شائد جبکہ اسلام زمین پر بالکل نہ رہے گا اس وقت پھر زمین پر نازل ہوں گے تب نئے سرے جملہ اہل کتاب یہود و نصاری معہ نام کے مسلمانوں کے ان پر ایمان لاویں گے مگر یہ سب کچھ تو جب ہو سکتا تھا کہ حضرت عیسی کا زندہ بجسم عنصری آسمان پر جانا ثابت کر لیا جاوے۔ مثل مشہور ہے شبت العرش ثم النفس نزول خیالی آپ کا تو فرع صعود کے ہے پس جبکہ جسم عنصری سے حضرت عیسی کا آسمان پر چڑھ جانا ہی ثابت نہیں ہوا تو اتر نا آسمان سے کیونکر ثابت ہو سکتا ہے اور آیت مذکورہ میں نہ کہیں نزول کا ذکر ہے نہ آسمان پر چڑھنے کا اور نہ حیات کا بلکہ موت کا ہی ذکر ہے پس صاف اور سیدھے معنی آیت کے یہی ہیں ( کوئی اہل کتاب میں سے نہیں مگر کہ وہ بالضرور بیان مذکورہ بالا کو قرآن مجید عیسی کی موت کے پہلے سے ہی مانتا چلا آیا ہے کیونکہ اسی مقام پر صیغہ مستقبل کا واسطے استمرار کے آتا ہے ) حاصل الا یہ یہ ہے کہ ضمیر بہ کی بیان مذکورہ قرآن مجید کی طرف راجع ہے اور یہ محاورہ قرآن مجید کا نسبت رجوع ضمیر کی طرف مذکور کی اثر پایا جاتا ہے اور وہ حاصل یہ ہے کہ سولی سے قتل ہو انہیں حضرت عیسی کے اہل کتاب شک میں پڑ گئے تھے اور کوئی وجہ علمی ان کے پاس بجز اٹکلوں کے نہیں تھی جس سے یقین پیدا ہو کہ سولی سے حضرت عیسی مقتول ہوئے ہیں اور غرض اس سب بیان کی اللہ تعالیٰ کے کلام میں یہی ہے کہ یہود کا قول یعنی إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللہ جو بڑی تاکیدات سے انہوں ا النساء : ١٦٠ النساء : ۱۵۸