مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 466

مکتوبات احمد ٤٦٦ جلد پنجم - نے کہا تھا اس کی نفی کی جاوے تاکیدات سے ہی دوسرے معنی آیت کے یہ بھی ہو سکتے ہیں جو تمام تفاسیر میں لکھے ہیں کہ ہر ایک اہل کتاب اپنی موت سے پہلے اس پر ایمان لے آتا ہے اور جو معنی آپ نے سمجھے ہیں وہ معنی محض غلط ہیں ان کی تغلیط تفاسیر معتبرہ میں بھی لکھے ہوئے ہیں ۔ دیکھو تفسیر مظہری صفحہ ۳۱ ۷ ۷۳۲۹ کو جس میں ان معنوں کا غلط ہونا ثابت کیا ہے ۔ ولـيـــــــــ ذلك في شي من الاحاديث المرقومه و كيف يفتح هذا التاويل مع ان كلمه ان من اهل الكتاب شامل الموجودين فى زمن النبي صلى الله عليه وسلم اليه سواء كان هذا لحكم خاصابهم اولا فان حقيقة الكلام للحال ولا وجه لان براده فريق من اهل الكتاب يوجدون جلن نزول عيسى عليه السلام فالتاويل الصحيح هو الاول ويويده قراءة ابی ابن کعب آخر تک ۔ ترجمہ: یعنی احادیث مرفوعہ ہیں ۔ ان معنی کا کوئی اصل صحیح موجود نہیں اور یہ تاویل کیونکر صحیح ہو سکتی ہے باوجود یکہ کلمہ ان من اهل الكتاب ان اہل الکتاب کو بھی شامل ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے خواہ یہ کلمہ یعنی ان من اهل الكتاب انہیں سے خاص ہو یا خاص نہ ہو لیکن حقیقت کلام جو زمانہ حال آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا زمانہ ہے وہ سب زمانوں سے مراد ہونے میں زیادہ استحقاق رکھتا ہے اور کوئی وجہ اس کی نہیں پائی جاتی کہ کیوں وہی اہلِ کتاب خاص کئے جاویں جو حضرت عیسی کے نزول کے وقت موجود ہوں گے۔ پس صحیح تاویل وہی ہے جو ہم پہلے بیان کر چکے ہیں قراءۃ ابی بن کعب بھی اسی کی مؤید ہے آخر تک۔ آگے رہا ہما را دعوی دربارہ مسیح موعود ہونے اور مہدیت کے سوا اس کے ثبوت کے لئے ہزار ہا نشانات موجود ہیں تم برائے چندے یہاں پر آکر قیام کرو تا کہ حقیقت دعوی کی تم کو ثابت ہو جاوے اب غور کرو کہ جس کھیت کے نمبر کا زمینداروں میں کچھ جھگڑا پڑتا ہے پٹواری کا حاضر ہونا موقعہ نزاع پر ضروریات روریات سے ہوتا ہے مثل مشہور ہے قضیہ زمین بر سرز: رزمین بر سرزمین والسلام على من اتبع الهدى ۱۴ جنوری ۱۸۹۷ء ☆ راقم الحکم نمبر ۹ جلد۱ مورخه ۲۳ دسمبر ۱۸۹۷ ء صفحه ۳۰۲ مرزا غلام احمد