مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 464 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 464

مکتوبات احمد ۴۶۴ جلد پنجم يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهَّرَكُمْ تَطْهِيرًا لے مجھ کو یقین ہے کہ حضرت امام حسین وغیرہ کو آپ بالضرور داخل اہل بیت رکھتے ہوں گے ۔ پھر کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ان کے جسم مطہر کے ساتھ کیسی کیسی بے ادبیاں کی گئیں ۔ پھر آپ کے مذہب کے بمو جب یہاں پر چند اشکال پیدا ہوتے ہیں ۔ اوّل جو امر اللہ تعالیٰ کی مرادات میں سے تھا وہ حاصل نہ ہوا ۔ دوم حضرت امام حسین آپ کے مذہب کے بموجب مطہر نہ رہے۔ سوم وعدہ الہیہ میں جو بتا کید تمام یعنی کلمه انما و تاکید مفعول مطلق و غیره فرمایا گیا تھا۔ خلف لازم آیا یہاں بھی تو اس آیت کو پڑھیئے کہ اِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ ۔ فما هو جوابكم فهو جوابنا هو اور رفع کی نسبت آپ خود ہی سوچ لیں کہ آیت میں توفی کے بعد ہی اقل درجہ تو یہ ضروری ہے کہ توفی کے ساتھ ہے بغیر توفی کے آیت میں نہیں ۔ پھر وفات کے ساتھ کونسا رفع ہوا کرتا ہے کیا وفات کے ساتھ جسم عنصری بھی آسمان پر اٹھایا جاتا ہے تمام احادیث اور نیز قرآن مجید سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ روح کا ہی رفع ہوا کرتا ہے نہ جسم کا دیکھو تفسیر آیت اِنَّ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِايْتِنَا وَاسْتَكْبَرُوا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ سے کو۔ اور معنی توفی کے جو باب تفعل سے ہے تمام قرآن مجید اور احادیث میں موت اور قبض روح کے ہی آئی ہیں لا غیر ائمہ کبار مثل امام مالک وغیرہ بھی حضرت عیسیٰ کی موت کے ہی قائل ہیں ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے بھی بروایت صحیح بخاری معنی توفی کے موت کے ہی کئے ہیں اور دیکھو حاشیہ جلا لین میں لکھا ہے و تمسک ابن حزم بظاہر الآية وقال بموته تمام کتب لغت پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ توفاه الله اى قبض الله روحه پھر فرمائیے کہ مخالفین نے ہمارے ان دلائل یقینیہ و براہین قطعیہ کا کیا جواب دیا ہے۔ آپ ہمارے رسائل کو دیکھیں اے حضرت مخالفین سے کسی ایک امر کا جواب بھی نہیں ہو سکا باوجود یکہ ہم نے ہزار ہا روپیہ کے انعام کا اشتہار بھی دیا۔ اگر آپ علم عربی سے واقف نہیں اور زیادہ بحثوں میں پڑنا نہیں چاہتے تو میں آپ کو ایک سہل تدبیر آپ اپنے کاغذات پٹوار گری کو ہی دیکھو بھالو کہیں نہ کہیں آپ کو لفظ توفی کسی اسامی دیہہ کے نام کے مقابل خسرہ وغیرہ میں ضرور ملے گا ۔ پھر اگر قانون گویا تحصیلدار صاحب سے اس اسامی متوفے کی نسبت آپ فرماویں کہ حضور وہ شخص تو مرا نہیں بتلائے دیتا ہوں آ ا الاحزاب : ۳۴ آل عمران : ۱۰ الاعراف : ۴۱