مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 463
مکتوبات احمد ۴۶۳ مکتوب ( از قادیان ضلع گورداسپور بحکم حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود لکھا گیا ۔ محمد احسن ) بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ میاں محمد اسماعیل صاحب پٹواری جلد نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ و علیکم السلام آپ کا خط حضرت اقدس کی خدمت مبارک میں پڑھا گیا۔ معلوم ہوا کہ آپ نے ہمارے رسائل مصنفہ میں سے کسی ایک رسالہ کا بھی مطالعہ نہیں کیا لہٰذا آپ پر ضرور ہے کہ ہماری کتا بیں دیکھو تا کہ حق واضح ہو جاوے یہاں پر آکر تمام شکوک اور شبہات رفع کر لو بالفعل مختصر طور پر تمہارے رے دونوں شبہات متعلقہ ہر دو آیات رفع کی جاتی ہیں ۔ آیت اول مندرجہ خط " یعیسی إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا لے سے تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ حسب وعدہ مظہر مندرجہ آیت کے حضرت عیسیٰ کا معہ جسم عنصری کے آسمان پر اٹھایا جانا ضروری ہے ورنہ بہ سبب بے ادبی کرنے کفار کے ساتھ جسم عنصری حضرت عیسی کے اس کے جسم کی تطہیر نہ ہو گی اور وعدہ اطہر میں خلف لازم آئے گا ۔ یہ شبہ تمہارا محض وہم اور خیال فاسد ہے۔ آپ پر لازم ہے کہ اول کسی دلیل شرعی سے آپ یہ ثابت کریں کہ کسی مطہر اور مقدس شخص کے جسم کے ساتھ کفار کی بے ادبی کرنے سے وہ شخص مطہر نہیں رہتا بلکہ بجائے تطہیر کے تجنیس ثابت ہو جاتی ہے لیکن اس امر کا ثابت کرنا تو آپ کو منجملہ محالات شرعیہ کے ہے کیونکہ نصوص صریحه قرآنیه مثل آيت و يقتلون النبيين بغير حق وغيره بآواز بلند ثابت کر رہی ہے کہ بعض انبیاء کے جسم مطہر کے ساتھ کفار کی بے ادبی کرنے کی یہانتک نوبت پہنچی کہ ان کو قتل ہی کر ڈالا چنانچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو قتل کر کے سر مبارک آنحضرت کا ایک کنجری کو دیا گیا اور اس نے اس کی سخت بے ادبی کی ۔ علاوہ انبیاء کے أمرين بالمعروف بھی اکثر قتل فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَيَقْتُلُونَ الَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ تو کیا آپ کے نزدیک انبیاء و اولیاء مقتولین مطہر اور مقدس نہ رہے نَعُوذُ بالله منها الا اعتقاد ثانیاً اہل بیت کے واسطے آیت تطہیر موجود ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔ اِنَّمَا اے آل عمران : ۵۶