مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 443
مکتوبات احمد ۴۴۳ جلد پنجم نے اپنی طرف سے اس کو حرام نہ فرمایا لیکن جب حرمت اس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہو گئی تب آپ نے بآواز بلند فرما دیا کہ ان الله قد حرم ذلك الى يوم القيامة اور نيز فرمایا ۔ الا انها حرام من يومكم هذا الى يوم القيامة جيسا کہ احادیث صحاح میں موجود ہے لہذا قول یا فعل کسی صحابی کا یا کسی امام کا آئمہ اربعہ میں سے یا کسی عالم کا علماء کبار میں سے مقابل نصوص قرآنیہ کے حجت نہیں ہو سکتا بلکہ نصوص قرآنیہ کی تبدیل تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جائز نہیں چہ جائیکہ اوروں کی کما قال تعالى قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ہے لہذا ہمارے اس خط کے جواب میں کوئی کوئی صاحب صا۔ مجاز نہیں ہیں کہ کسی کا قول پیش کریں ہاں جو ہم نے استدلال بآیات قرآن مجید کیا ہے اس کی ہر ایک دلیل اور L مقدمہ کو منقوض کریں ورنہ وہ جواب مسموع نہ ہوگا ۔ والسلام خیر ختام ☆ ۱۸ دسمبر ۱۹۰۱ء الراقم سید محمد احسن امروہوی شاہ علی سرائے ا یونس : ۱۶ یه الحکم نمبر ۴۵ جلد ۵ مورخه ۱۰ دسمبر ۱۹۰۱ء صفحه ۶، ۷