مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 444

مکتوبات احمد マママ جلد مکتوب بنام مولوی مشتاق احمد صاحب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ محتی اخویم مولوی مشتاق احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں نے بہت خوشی سے اس اشتہار کو پڑھا۔ جس میں آپ اس عاجز کو بحث کے لئے بلاتے ہیں۔ زیادہ تر خوشی مجھے اس بات سے ہے کہ آپ ایک مہذب اور با اخلاق آدمی ہیں ۔ امید ہے کہ یہ بحث حسب مراد خوش اسلوبی سے ہوگی ۔ مجھے بسر و چشم یہ منظور ہے۔ بحث تقریری ہوا اور اس طرح پر ہو کہ ایک ہند و منشی سوال و جواب لکھتا جائے ۔ مثلاً آپ اوّل یا میں اوّل جیسا کہ آپ پ کا کا ما منشاء ہو ا یک سوال تحریر کروائیں اور وہ سوال پڑھا پڑھا جائے جائے ا اور عام طور پر سنایا جائے ۔ پھر فریق ثانی اسی طرح اپنا جواب لکھا دیوے فریقین ایک دوسرے سے مخاطب نہ ہوں بلکہ جو کچھ لکھنا ہو جلسہ عام میں بآواز بلند لکھا دیں اور ساتھ ساتھ دستخط ہوتے جائیں۔ چند سوال آپ کی طرف سے ہوں اور چند اس عاجز کی طرف سے ۔ غرض یہ شرط آپ کی اس عاجز کو منظور ہے جبکہ عین انصاف پر مبنی ہے۔ تو بھلا کیوں منظور نہ ہو۔ سو عرض خدمت ہے کہ یہی شرط اس عاجز کی طرف سے بھی ہے اور جو کچھ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ فریقین کی تقریر میں کوئی اور شخص شامل نہ ہو۔ صراحتا یا اشار تا کسی طرف سے مدد نہ پہنچے۔ بہت خوب ہے جزاکم اللہ ۔ یہی تو میں چاہتا تھا کہ ایسی روش منصفانہ میں کوئی بحث کرے ۔ رہی یہ بات کہ بحث کس امر میں ہوگی ۔سو وہ بھی ظاہر ہے کہ بحث اس امر کی نسبت ہونی چاہیے جو اس تمام جھگڑے کی اصل اور بنیاد ہے سو اس اصل کے تصفیہ سے فروع کا خود تصفیہ ہو جائے گا کیونکہ فرع اصل کی تابع ہے اس وجہ سے ہے طریق مستقیم مناظرہ کا یہی ہے کہ متخاصمین اصول میں گفتگو کریں اور آل محب پر یہ بات واضح ہے کہ اصل امر متنازعہ فیہ وفات یا حیات مسیح ہے اور الہام الہی نے اسی کو اصل ٹھہرایا ہے جیسا کہ