مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 442
مکتوبات احمد ۴۴۲ جلد پنجم کہ ماورا محرمات مذکورہ بالا کے سب عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں کہ بدلے اموال کے تم ان کو ایسے نکاح میں لانا چا ہو جو مانند قید حصن کے ہوا اور صرف شہوت رانی کے لئے نہ ہو۔ پھر بعد عقد نکاح کے جس چیز کے ساتھ یعنی جماع وغیرہ کے ساتھ تم ان سے نفع اٹھاؤ تو ان کے مہر فریضہ اور مقررہ ان کو دو یعنی در صورت فائدہ اٹھانے کی منکوحات سے ساتھ جماع وغیرہ کے پورا مہر فریضہ اور مقررہ دینا ہوگا ۔ یہ معنی آیت کے نہایت مربوط و مرتب اور درست ہوتے ہیں لیکن اگر آیت فما استمتعتم کو ماسبق سے علیحدہ کر کر معنی استمتاع کے عقد متعہ کے لئے جاویں تو اولاً حرف فا لغو اور باطل ہوا جاتا ہے۔ ثانیاً اور کوئی ربط ما سبق سے باقی نہیں رہتا اور نیز ثالثاً معنی آیت کے فی نفسها فاسد ہو سد ہو جاویں گے کیونکہ اس اس صورت میں لازم آتا ہے لازم آتا ہے کہ بحجر دواقع ہونے عقد متعہ کے بغیر حصول فوائد جماع وغیرہ کے پورا مہر یا اجور کا ادا کرنا ضروری ہو حالانکہ پورا مہر مقررہ تو بجر دعقد نکاح کے بھی لازم نہیں آتا جب تک کہ استمتاع جماع وغیرہ کے ساتھ واقع نہ ہوئے ۔ پس اس معنے سے فساد پر فسا دلا زم آیا ۔ وتـعـالـى شـان كلام الله تعالى عن ذلك علوا كبيرا ۔ اور سورہ مومنوں کی آیت بھی عقد متعہ کی نفی کر رہی ہے۔ قال الله تعالى وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ - فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعُدُونَ کیونکہ عورت ممنوعہ نہ ملک یمین میں داخل ہے اور نہ ازواج میں داخل ہو سکتی ہے کیونکہ احکام وراثت و ملک یمین وغیرہ سے اس کو کچھ بھی حصہ نہیں ملتا ہے لہذا عورت ممنوعہ ماوراء ذالک میں داخل ہوئی اور جو شخص ایسے عقد کا ابتغا کرے وہ عادون میں دا سرے وہ عادون میں داخل ہے ـ وهو المدعا ۔ اب رہیں احادیث سو جس باب احادیث میں بسبب شدة ضرورت اور قلت نساء کے متعہ کا جواز خاصہ کسی کے لئے جہاد میں پایا جاتا ہے اُسی باب میں اس کی حرمت موبدہ بڑی تاکید سے ثابت ہوتی ہے اور ستر اس روایت جواز اور حرمت کا یہ ہے کہ جب تک حرمت کسی شے کی با مرالہی نازل نہ ہوتی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اباحت اصلیہ کے ماتحت رکھتے تھے پس بعض لوگوں نے جب بحسب ضرورت اشد متعہ کیا تو حسب عادت کریمہ اس رحمۃ للعالمین ا المومنون : ۶ تا ۸