مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 441
مکتوبات احمد ۴۴۱ جلد پنجم رد عقد موقت یعنی متعہ کا موجود ہے جس کا بیان مختصر یہ ہے کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔ وَ أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوْا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَاتُوهُنَّ اُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً آيت آیت میں لفظ مُحْصِنِينَ جس کا مادہ حصن ہے دلالت کر رہا ہے کہ جس عقد نکاح کا ذکر ما سبق آیت کے ہے وہ ایک قلعہ کی مانند ہو جس میں سے زوجہ خود بخود بغیر طلاق کے باہر نہ ہو سکے تاکہ معنی احسان کے پورے طور پر حاصل ہوں ۔ پس لفظ مُحْصِنِينَ سے عقد موقت یعنی متعہ خارج ہو گیا کیونکہ اس میں تو وقت عقد کے ہی نفی احصان کی ہوتی ہے یعنی عورت بغیر طلاق کے بعد انقضائے اجل کے خود بخود جدا ہو جاتی ہے ۔ پھر لفظ غير مُسَافِحِيْنَ بھی دلالت کر رہا ہے کہ وہ نکاح صرف شہوت رانی کے لئے نہ ہو کہ بعد نکالنے مستی کے چند روز کے بعد عورت بغیر طلاق کے مطلق العنان ہو جاوے۔ پس عقد متعہ منافی ہے لفظ غَيْرَ مُسَافِحِينَ کے لئے بھی ۔ آگے لفظ فآ موجود ہے جو تعقیب کے لئے آیا ہے ۔ لہذا مضمون مَا اسْتَمْتَعْتُم بِہ کا بعد اس نکاح کے ہونا چاہئے جس کا ذکر بشرائط مذکورہ ہو چکا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ بعد ایسے نکاح کے جو بشرائط مذکورہ ہو عقد موقت یعنی متعہ کہاں ہو سکتا ہے بلکہ بعد ایسے نکاح کے منکوحات سے فوائد جماع اور مباشرت وغیرہ کے حاصل کیے جاتے ہیں ۔ پس آیت متنازعہ فیھا میں معنے استمتاع کے فائدہ جماع وغیرہ کا حاصل کرنا متعین ہوئے لا غیر پس ایک لفظ فا نے ہی عقد متعہ کی نفی کر دی ۔ پھر لفظ ما ہے جو غیر ذوی العقول کے لئے حقیقتا آیا ہے پس لفظ ما سے مراد عورتیں کیونکر ہو سکتی ہیں کہ بلا ضرورت حقیقت سے صرف الی المجاز لازم آتا ہے اور اگر تسلیم بھی کیا جاوے تو پھر مِنْهُنَّ کی کیا ضرورت ہے۔ پس مرا داس سے جماع یا مباشرۃ وغیرہ ہے ہو لا غیر اور ضمیر بہ کی جو مفرد ہے اسی لفظ ما کے مفہوم کی طرف راجع ہے۔ ہاں ضمیر جو منھن میں ہے ان عورتوں کی طرف راجع ہے جن سے نکاح بطور احصان اور غَيْرَ مُسَافِحِینَ کی حالت میں ہوا ہے اور چونکہ بعد نکاح کے منکوحات سے جماع وغیرہ کے ساتھ ہی ابتدا کی جاتی ہے لہذا الفظ مِنْ مِنْهُنَّ میں موجود ہے جو ابتدا کے لئے آتا ہے پس آیت مذکورہ سے عدم جواز متعہ پایا گیا نہ جواز ۔ اور ترجمہ ماحصل آیت کا یہ ہوا ا النساء : ۲۵