مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 385

مکتوبات احمد ۳۸۵ جلد پنجم آتے ہیں ۔ اور میں خدا تعالیٰ کے سامنے وعدہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں سے مباحثات ہرگز نہیں کروں گا ۔ سو وہ طریق جو مباحثات سے بہت دور ہے وہ یہ ہے کہ آپ اس مرحلہ کو صاف کرنے کے لئے اول یہ اقرار کر دیں کہ آپ منہاج نبوت سے باہر نہیں جاویں گے۔ اور وہی اعتراض کریں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا حضرت عیسیٰ پر یا حضرت موسیٰ پر یا حضرت یونس پر عائد نہ ہوتا ہوا اور حدیث اور قرآن کی پیشگوئیوں پر زد نہ ہو۔ دوسری یہ شرط ہو گی کہ آپ زبانی بولنے کے ہرگز مجاز نہیں ہوں گے۔ صرف آپ مختصر ایک سطر یا دو سطر تحریر دے دیں کہ میرا یہ اعتراض ہے۔ پھر آپ کو عین مجلس میں مفصل جواب سنایا جاوے گا ۔ اعتراض کے لمبا لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ ایک سطر یا دو سطر کافی ہیں ۔ تیسری یہ شرط ہو گی کہ ایک دن میں صرف ایک ہی اعتراض آپ کریں گے کیونکہ آپ اطلاع دے کر نہیں آئے چوروں کی طرح آگئے ۔ اور ہم ان دنوں بباعث کم فرصتی اور کام طبع کتاب کے تین گھنٹے سے زیادہ وقت و زیادہ وقت نہیں خرچ کر سکتے ۔ یاد رہے کہ یہ ہرگز نہیں ہوگا کہ عوام کالانعام کے رو برو آپ وعظ کی طرح لمبی گفتگو شروع کر دیں بلکہ آپ نے بالکل مونہہ بند رکھنا ہوگا ۔ جیسے صم بکم ۔ اس لئے کہ تا گفتگو مباحثہ کے رنگ میں نہ ہو جائے ۔ اوّل صرف ایک پیشگوئی کی نسبت سوال کریں ۔ تین گھنٹہ تک میں اس کا جواب دے سکتا ہوں ۔ اور ایک ایک گھنٹہ کے بعد آپ کو متنبہ کیا جائے گا کہ اگر ابھی تسلی نہیں ہوئی تو اور لکھ کر پیش کرو۔ آپ کا کام نہیں ہو گا کہ اس کو سناویں۔ ہم خود لہ اس کو سناویں۔ ہم خود پڑھ لیں گے مگر چاہئے کہ دو تین سطر سے زیادہ نہ ہو ۔ اس طرز میں آپ کا کچھ ہرج نہیں ہے ۔ کیونکہ آپ تو شبہات دور کرانے آئے ہیں ۔ یہ طریق شبہات دور کرانے کا بہت عمدہ ہے ۔ میں بآواز بلند لوگوں کو سنا دوں گا کہ اس پیشگوئی کی نسبت مولوی ثناء اللہ صاحب کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا ہے ۔ اور اس کا یہ جواب ہے۔ اسی طرح تمام وساوس دور کر دیئے جاویں گے ۔ لیکن اگر یہ چاہو کہ بحث کے رنگ میں آپ کو بات کا موقعہ دیا جائے ۔ تو یہ ہرگز نہیں ہوگا ۔ چودہویں جنوری ۱۹۰۳ء تک میں اس جگہ ہوں ۔ بعد میں ۱۵ جنوری کو ایک مقدمہ پر جہلم جاؤں گا ۔ سو اگرچہ کم فرصتی ہے ۔ مگر چودہ جنوری تک ۳ گھنٹہ تک آپ کے لئے خرچ کر سکتا ہوں ۔ اگر آپ لوگ کچھ نیک نیتی سے کام لیں تو یہ ایک ایسا طریق ہے کہ ایسے آپ کو فائدہ ہوگا ۔ ورنہ ہمارا اور آپ