مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 543 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 543

مکتوبات احمد ۵۴۳ جلد چهارم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبرا مخدومی و مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ - عنایت نامه معہ پارسل ادویہ پہنچا۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ - امید کہ انشاء الله القدير دوائی مجوزہ آں مکرم شروع کروں گا ۔ ہنوز میری حالت شدت خارش کی بدستور ہے ۔ جو زخم ہو جاتا ہے وہ مشکل سے بھرتا ہے۔ درد شدید اور ضربان اور سوزش اور جلن ایسی لازم حال رہتی ہے کہ مجھ سے کوئی کام نہیں ہو سکتا اللہ جل شانہ کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ۔ میرا ارادہ تھا کہ امرت سر ۔ کپورتھلہ ۔ سیالکوٹ ایک مرتبہ دیکھ آؤں ۔ لیکن اس مرض کے سبب سے میری حالت سفر کے لائق ہرگز نہیں ۔ شیخ بتالوی اپنی فتنہ انگیزی میں اب تک سست اور کاہل نہیں ہوئے اور اپنے تمام جذبات نفسانی اسی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان مولویوں کے ذریعہ سے تحریک منظور ہے اور چاہتا ہے کہ جلدی اپنے کام کو دنیا میں پھیلا دیوے کیونکہ بغیر اطلاع یابی کے کوئی شخص طلب کے لئے قدم نہیں اٹھا سکتا ۔ کا جموں میں تشریف لا نا معلوم ہوا ۔ اگر چہ اس دارالا بتلا میں خدا تعالیٰ نے اولاد کو بھی فتنہ میں ہی داخل رکھا ہے جیسا کہ اموال کو لیکن اگر کوئی شخص صحت نیت کی بناء پر محض اس غرض سے اور سراسر اس وجد اور فکر سے طالب اولاد ہو کہ تا اس کے بعد اس کی ذریت میں سے کوئی خادم دین پیدا ہو جس کے وجود سے اس کے باپ کو بھی دوبارہ ثواب آخرت کا حصہ ملے تو خاص اس نیت اور اس جوش سے اولاد کا خواہش مند ہونا نہ صرف جائز بلکہ اعلیٰ درجہ کے اعمال صالحہ میں سے ہے جیسا کہ اس خواہش کی تحریک اس آیہ کریمہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا ہے ۔ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا لے میں ۱۹ ۔ لیکن سچ سچ اور واقعی الفرقان : ۷۵