مکتوبات احمد (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 544 of 590

مکتوبات احمد (جلد چہارم) — Page 544

مکتوبات احمد ۵۴۴ جلد چهارم اور حقیقی طور پر یہی جوش پیدا ہونا اور اسے اللہ للہی جوش کی بنا پر اولا د کا خواہش مند ہونا ان ابرار و اخیار اور اتقیاء کا کام ہے۔ جو اپنے اعمال خیر کے آثار باقیہ دنیا میں چھوڑ جانا چاہتے ہیں ۔ سو جہاں تک تجربہ کیا گیا ہے۔ بے شک ایک سچے خادم دین ہیں ۔ خدا تعالیٰ ان کو اس نیت اور اس جوش میں پورے طور پر مکمل کر کے ان کی مرادات انہیں عطا فرمادے اور یہ عاجز بھی اپنے لئے اور نیز آں مکرم کے لئے بھی بجوش دل یہی دعا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری نسل اور ذریت میں سے بھی اپنے دین کے خادم اور اپنی راہ کے سچے جان نثار پیدا کرے۔ یہ دعا اس عاجز کی اپنے لئے اور آپ کے لئے اور ۔۔۔ کے لئے اور ہر ایک دوست کے لئے ہے ۔ لیکن ابنائے روزگار کی رسم اور عادت کے طور پر خواہش مند اولا د ہونا اور یہ خیال رکھنا کہ ہماری موت فوت کے بعد ہماری زخارف دنیا کی ہماری اولا دوارث بنے اور شرکاء ہماری جائداد کے قابض نہ ہونے پائیں بلکہ ہمارے بیٹے ہمارے ترکہ پر قبضہ کریں اور شریکوں سے لڑتے جھگڑتے رہیں اور ہمارے مرنے کے بعد دنیا میں ہماری یادگار رہ جاوے یہ خیال سرا سر شرک اور فساد اور سخت معصیت سے بھرا ہوا ہے اور میں جانتا ہوں کہ جب تک یہ خیال دل میں سے دور نہ ہولے کوئی شخص سچا موحد اور سچا مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ ہمیں ہر روز خدا تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانا چاہئے اور جن امور کو وہ فتنہ قرار دیوے ۔ بغیر تحقق صحت نیت کے ان کو اپنی درخواست سے اپنے پر نازل نہیں کرانا چاہیے۔ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ اس کے لئے ہو جاتا ہے ۔ وہ اس کے اندرونی پاک جوشوں اور مظہر جذبات کو خوب جانتا ہے بلکہ در حقیقت پاک دل انسان کے اندرونی جوش اس کی طرف سے ہوتے ہیں اور پھر وہ انہیں کو پورا بھی کر دیتا ہے۔ جس وقت وہ دیکھتا ہے کہ ایک لیٹی حالت کا آدمی اس کے دین کی خدمت کے لئے اپنا کوئی وارث چاہتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کو ضرور کوئی وارث عنایت کرتا ہے ۔اس کی دعائیں پہلے ہی سے قبول شدہ کے حکم میں ہوتی ہیں ۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو اسی حالت سے اور اس کے نتائج سے تمتع کامل کامل عطا فرمادے اور کسی جگہ مکان بنانے کے لئے یہ عاجز ارادہ الہی کی طرف دیکھ رہا ہے۔ اس لئے ابھی کوئی بات منہ پر نہیں لا سکتا ۔ لیکن اس عاجز کی دلی منشاء ہے آں مکرم کا اس بات میں تو ارد ہے کہ یہ عاجز اور آل مکرم بقیہ زندگی ایک جگہ بسر کریں۔ سو یہ