مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 119
مکتوبات احمد ۱۱۱ جلد سوم اُمید قوی ہے کہ ظاہر ہو جائے لیکن یہ جدو جہد کا کام ہے شاید ہفتہ عشرہ اس طرف مشغول اور توجہ کرنی ایک جدو جہدکا کام ہےشاید عشرہ اور پڑے۔ سو توجہ بھی جو سخت محنت پر موقوف ہے ہر ایک کے لئے نہیں ہو سکتی اور ناحق کی تضیع اوقات معصیت میں داخل ہے۔ ہاں ! ایسے شخص سے اگر کوئی دینی امداد پہنچ جائے اور وہ کوئی ہد یہ امدادی امداد اور فی سبیل اللہ داخل کر سکے تو محنت ہو سکتی ہے ورنہ نہیں ۔ سو اُس ہندو کو آپ سمجھا دیں کہ اگر وہ اپنے نفس میں یہ طاقت پاتا ہے اور حسب حیثیت امداد دین میں خدمت بجالا سکتا ہے تو اُس کے لئے توجہ کر سکتے ہیں ۔ اُس توجہ میں اگر چہ غالب امید استجابت دعا ہے لیکن اگر نا کامی کے لئے تقدیر مبرم ہے تو پھر مجبوری ہوگی ۔ زیادہ خیریت ۔ ۲۵ را کتوبر ۱۸۹۰ء والسلام راقم خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور مکتوب نمبر ۳۲ مشفقی مکرمی محبی صاحبزادہ سراج الحق صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ سرفراز السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ از نامه سامی صادر ہوا۔ عمامہ و عطر آپ کا پہنچا۔ خداوند کریم آپ کو اس خدمت یا اخلاص کا اجر نیک عطا فرمائے ۔ اس ہندو کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے کہ جیسا کہ اس نے خواہش ظاہر کی ہے ویسا کرنے کے واسطے جدو جہد اور دعا و توجہ کی اشد ضرورت ہے اور یہ عاجز اس وقت بسبب بیمار رہنے کے ایک عرصہ تک جدوجہد سے مجبور ہے۔ میرا کوئی ایسا اشتہار نہیں ہے جو موافق خیال ہندو مذکور کے ہو یعنی یہ کہ جو کچھ وہ خواہش کرے اس کی خواہش کے مطابق کوئی خرق عادت خداوند کریم ظاہر فرمادے بلکہ اشتہار یہی ہے کہ جیسا خدا وند کریم کو منظور ہو کوئی خرق عادت ظہور میں آئے گا جو انسانی طاقتوں سے باہر ہو ۔ طلب اسلام میں بدیدن خرق عادت کے اسی خرق عادت کا طالب ہونا جس کو مدعی خود درخواست کرے اور کسی دوسرے امر پر قانع نہ ہو جو خدا وند کریم کی مرضی سے ظاہر ہو، ایک قسم کی ہٹ دھرمی ہے۔ اگر اس کو اسلام کی خواہش ہے اور وہ میرے