مکتوبات احمد (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 558

مکتوبات احمد (جلد سوم) — Page 118

مکتوبات احمد ۱۱۰ جلد سوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مکتوب نمبر ۱۳۰ مکرمی اخویم صاحبزادہ صاحب سلمه تعالی نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ یہ عاجز ان دنوں میں قادیان میں ہے ۔ آپ کی ملاقات کا بہت شوق ہے۔ دیکھیں کس وقت یہ تقریب پیش آوے ۔ دیگر خیریت ہے ۔ ۲۲ اکتوبر ۱۸۹۰ء والسلام مکتوب نمبر ۳۱ خاکسار غلام احمد عفی عنہ از عاجز عائذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مکرم صاحبزادہ سراج الحق صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا جو کچھ آپ نے بطور تحفہ عمامہ و عطر ارسال فرمایا ہے اس ہد یہ دوستانہ کا آپ سے شکر گزار ہوں ۔ جَزَاكُمُ اللهُ خَيْرَ الْجَزَاءِ وَأَحْسَنَ إِلَيْكُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْعُقْبَى - خدا تعالیٰ آپ کو بہت خوش رکھے اور مکروہات دنیا و دین سے بچاوے ۔ آمین ثم آمین ۔ جس ہندو کے بارے میں آپ نے لکھا ہے جنبش رحمت اس کے اعتقاد اور اخلاص پر موقوف ہے ۔ اللہ جل شانہ غنی بے نیاز ہے بجز قدم خلوص و نیاز مندی اور کوئی حیلہ اس درگاہ میں پیش نہیں جاتا۔ شرط کے طور پر اس کی راہ میں کچھ دینا ایک رشوت کا طریق ہے خدا تعالی رشوت ستاں نہیں ہے ۔ ہاں اس کی جناب میں کچھ درخواست کرنے کے لئے کسی متمول حاجت مند کے لئے یہ طریق ہے کہ اپنے خلوص اور نیاز مندی کے اثبات کے لئے اُس کی راہ میں اور اُس کے کام کی امداد میں کوئی نذر حسب حیثیت پیش کرے اور اگر چہ ظاہر کرے تو جو کچھ اُس کے حق میں خیر یا شر مقدر ہے یا جو کچھ اُس کے امر کا انجام کار ہے۔