مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 635
مکتوبات احمد ۶۳۵ جلد دوم لوگ آتے ہیں ، اب بھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ دشمنوں نے افتراء میں کچھ فرق وہی ہوتا ہے ۔ دشمنوں نے افتراء میں کچھ فرق نہیں کیا۔ میں نے آتے وقت حکیم فضل الدین صاحب کو ایک درخواست لکھ دی تھی اور مبلغ باون روپیہ چار گواہوں کے طلب کرانے کے لئے دے دیئے تھے مگر نہایت خراب حالت ہے ۔ کچھ امید نہیں کہ طلب کئے جاویں۔ منجملہ ان گواہوں کے ایک رانا جلال الدین خاں ہیں ۔ دوسرے شیخ ملک یار اور تیسرے منشی غلام حیدر تحصیلدار ۔ چوتھے محمد علی شاہ صاحب ساکن قادیان ۔ لوگ کہتے ہیں کہ را نا جلال الدین خان صاحب اگر طلب بھی ہوئے تو محمد بخش اور دوسرے لوگ کوشش کریں گے کہ اس کا اظہار اپنی مرضی کے موافق دلا دیں۔ ہر چہ مرضی مولیٰ ہماں اولی اوّل تو مجھے امید نہیں کہ طلب کئے جاویں۔ مجسٹریٹ خواہ نخواہ در پے تو ہین اور سخت بدظن معلوم ہوتا ہے۔ میرے وکیلوں نے یہ حالات دریافت کر کے یہی چاہا تھا کہ چیف کورٹ میں مثل کو منتقل کرا دیں۔ لیکن یہ بات بھی نہیں ہو سکی۔ اگر آپ کو رانا جلال الدین خاں کی نسبت کچھ مشورہ دینا ہو تو اطلاع بخشیں۔ حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ اول تو مجسٹریٹ گواہ بلانے منظور نہیں کرے گا۔ چنانچہ وہ پہلے بھی ایما کر چکا ہے اور کرے بھی تو غالباً بند سوال بھیجے گا۔ رانا جلال الدین خان کا مقام گوجرانوالہ لکھایا گیا ہے ۔ شاید وہیں ہیں یا اور جگہ ہیں ۔ ۱۶ فروری ۱۸۹۹ء - والسلام خاکسار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرزا غلام احمد عفی عنہ