مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 636
مکتوبات احمد ۶۳۶ مکتوب نمبر ۲۶۷ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ میں آپ کو اطلاع ۔ کو اطلاع دیتا ہوں کہ میری گواہی کے لئے رانا جلال الد جلال الدین خان صا صاحب عدالت میں طلب کئے گئے ہیں اور ۲۴ فروری ۱۸۹۹ ء تاریخ پیشی مقرر ہے اور چونکہ محمد حسین نے صاف طور پر لکھوا دیا ہے کہ ظن غالب ہے کہ لیکھرام کے قاتل یہی ہیں ۔ اس لئے لیکھرام کی مسل بھی طلب ہوئی ہے۔ زیادہ خیریت ہے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ :۔ اس خط پر تاریخ کوئی نہیں ۔ مگر تسلسل خط و کتابت سے واضح ہے کہ یہ ۱۶ رفروری ۱۸۹۹ء کے بعد کا ہے ۔ (عرفانی ) مکتوب نمبر ۲۶۸ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ ۲۴ رفروری ۱۸۹۹ء کو مقدمہ پیش ہو کر بغیر لینے گواہوں کے مجھے بری کیا گیا۔ استغاثہ کی طرف سے گواہی گزر چکی تھی ۔ اور فریقین کے لئے دونوٹس لکھے گئے اور ان پر دستخط کرائے گئے ۔ جن کا یہ مضمون تھا کہ نہ کسی کی موت کی پیشگوئی کریں گے اور نہ دجال ، کذاب ، کافر کہیں گے اور نہ قادیان کو چھوٹے کاف سے لکھیں گے اور نہ بٹالہ کو طاء کے ساتھ اور گالیاں نہیں دیں گے اور ہدایت کی گئی کہ یہ نوٹس عدالت کی طرف سے نہیں ہے اور نہ اس کو مجسٹریٹ کا حکم سمجھنا چاہیے ۔صرف خدا کے سامنے اپنا اپنا اقرار سمجھو۔ قانون کو اس سے کچھ تعلق نہیں ۔ ہمارا کچھ دخل نہیں ۔ مجھے کہا گیا کہ آپ کو ان کی