مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 634
مکتوبات احمد ۶۳۴ جلد دوم اس کی یہ تعبیر معلوم ہوتی ہے کہ یک دفعہ کوئی ایسے امور پیدا ہو جائیں ۔ جن سے حاکم کی آنکھیں کھل ہے جائیں ۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے بھینس بنائی ہے تو اس نشان کے ظاہر ہونے سے کہ خدا تعالیٰ نے ایک لکڑی یا ایک پتھر کو ایک مفید حیوان بنا دیا جو دودھ دیتا ہے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے اور یکدفعہ سجدہ میں گرا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں ، ربی الاعلی ربی الاعلی ۔ اور سجدہ میں گرنے کی بھی یہی تعبیر ہے کہ دشمن پر فتح ہے۔ اس کی تائید میں کئی الہامات ہوئے ہیں ایک یہ الہام ہے :۔ إِنَّا تَجَا لَدْنَا فَانْقَطَعَ الْعَدُوُّ وَاسْبَابُهُ لے یعنی ہم نے دشمن کے ساتھ تلوار سے لڑائی کی۔ پس دشمن ٹکرے ٹکڑے ہو گیا اور اس کے اسباب بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ۔ آئیدہ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور اس خواب اور الہام کا مصداق کونسا امر ہے؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ محمد بخش کے کہاں گھر ہیں؟ اور ذات کا کون ہے۔ مجھے سرسری طور پر معلوم ہوا ہے کہ ذات کا ہے اور گوجرانوالہ میں اس کے گھر ہیں اور معلوم ہوا ہے کہ نظام الدین اس کے ایک شادی پر گوجرانوالہ میں گیا تھا اور تنبول دیا تھا۔ اگر اس کا کچھ پتہ آپ کو معلوم ہو تو ضرور مطلع فرماویں۔ ۵ فروری ۱۸۹۹ء قادیان والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۲۶۶ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ کل میں پٹھان کوٹ سے واپس آگیا ۔ ۲۴ رفروری ۱۸۹۹ء میرے بیان کے لئے اور فیصلہ کے لئے مقرر ہوئی ہے۔ حالات بظاہر ابتر اور خراب معلوم ہوتے ہیں ۔ محمد حسین اور محمد بخش کے اظہارات تعلیم سے کامل کئے گئے ہیں۔ مجھ پر محمد حسین نے بغاوت سرکار انگریزی اور قتل لیکھرام کا اپنے بیان میں الزام لگایا ہے۔ محمد بخش نے لکھوایا ہے ۔ ان کی حالت بہت خطرناک ہے۔ سرحدی ہے محمد بخش نے لکھوایا ہے۔ ان کی حالت بہ لا تذکرہ صفحہ ۲۷۵ ۔ ایڈیشن چہارم