مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 633
مکتوبات احمد ۶۳۳ جلد دوم آنکھ زیادہ لکھنے کی طاقت نہیں ۔ ۲۵ جنوری ۱۸۹۹ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۲۶۵ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ آپ کو خبر پہنچ گئی ہوگی کہ پہلی سب کارروائی کا لعدم ہو چکی ہے اور اب نئے سرے نوٹس جاری ہو گا۔ تاریخ مقدمه ۱۴ / فروری ۱۸۹۹ء قرار پائی ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ دفتر انگریزی کے کلارک پیشگوئی بابت آتھم اور پیشگوئی بابت لیکھر ام اور پیشگوئی حال کا ترجمہ کر کے پیش کریں۔ معلوم ہوتا ہے کہ نیت بخیر نہیں ہے۔ محمد حسین کو غالباً بری کر دیا ہے اور اس گروہ کے لوگ یہی مشہور کرتے ہیں اور اس کی نسبت نوٹس بھیجنے کی کچھ بھی تیاری نہیں ۔ وہ لوگ بہت خوش ہیں ۔ اس حاکم نے ایک ٹیڑھی لکیر اختیار کی ہے کہ قانون سے اس کا کچھ تعلق نہیں ۔ محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بڑی شوخی اور بد زبانی سے ظاہر کر رہا ہے اور علانیہ ہر ایک کے پاس کہتا ہے کہ میں ضمانت کراؤں گا ۔ سزا دلاؤں گا اور ظاہراً یہ بات سچ معلوم ہوتی ہے ۔ کیونکہ یہ مجسٹریٹ اس کی بڑی عزت کرتا ہے اور بڑا کچھ اعتبار ہے۔ ہر ایک دفعہ میں دیکھتا رہا ہوں کہ میری نسبت اس کی نیت نیک نہیں ہے۔ لیمار چنڈ بھی بگڑا ہوا ہے۔ جمعہ کی رات میں نے خواب دیکھا ہے کہ ایک شخص کی درخواست پر میں نے دعا کر کے ایک پتھر یا لکڑی کی ایک بھینس بنادی ہے ۔ اس بھینس کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں۔ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدمہ کے متعلق یہ خواب ہے کیونکہ پتھر یا لکڑی سے وہ منافق حاکم مراد ہے ۔ جس کا ارادہ یہ ہے وہ یہ ہے کہ بدی پہنچاوے اور جس کی آنکھیں بند ہیں اور پھر بھینس بن جانا اور بڑی بڑی آنکھیں ہو جانا۔ لے تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۲۷۵