مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 624 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 624

مکتوبات احمد ۶۲۴ مکتوب نمبر ۲۵۴ ملفوف جلد دوم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمه تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ میری طبیعت علیل رہی ہے اور اب بھی علیل ہے ۔ اس لئے زیادہ تحریر کی طاقت نہیں رہی ۔ میں نے اس مہمان خانہ کے لئے ضرورت اشد کی وجہ سے ایک کنواں لگوانا شروع کیا تھا۔ چند دوستوں کو چندہ کے لئے تکلیف بھی دی گئی ۔ مگر وہ چندہ نا کافی رہا ۔ اب کنوئیں کا کام شروع ہے ۔ مگر روپیہ کی صورت ندارد ۔ چاہتا ہوں اگر آپ دو ماہ کا چندہ چالیس روپیہ بھیج دیں۔ تو شاید اس سے کچھ مددمل سکے ۔ ابھی کام بہت ہے۔ بلکہ عمارت بھی شروع نہیں ہوئی ۔ بوجہ ضعف کے زیادہ لکھ نہیں سکتا ۔ ۲۷ ستمبر ۱۸۹۶ء والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔* مکتوب نمبر ۲۵۵ ملفوف بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مکرمی محبی محبی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آپ کی خدمات متواترہ سے مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر بخشے ۔ اس وقت باعث قحط اور کثرت مہمانوں کے ضرورتیں ہیں۔ اخراجات کا کچھ ٹھکانہ نہیں ۔ اب آٹے کی قیمت کے لئے ضرورت ہے۔ اس لئے مکلف ہوں کہ اگر ممکن ہو سکے تو پھر آپ مبلغ چالیس روپیہ بطور پیشگی بھیج دیں کہ بہت ضرورت درپیش ہے اور مجھ کو اطلاع دیں کہ یہ روپیہ کس میعاد تک آپ