مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 54

مکتوبات احمد ۵۴ جلد دوم از طرف عاجز عائذ بالله غلام احمد مکتوب نمبر ۳۵ بخدمت اخویم مخدوم و مکرم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمہ اللہ تعالی عنایت نامہ پہنچا اور کئی بار میں نے اُس کو غور سے پڑھا جب میں آپ کی ان تکلیفوں کو دیکھتا ہوں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی اُن کریمانہ قدرت کو جن کو میں نے بذات خود آزمایا ہے اور جو میرے پر وارد ہو چکی ہیں تو مجھے بالکل اضطراب نہیں ہوتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ خدا وند کریم قادر مطلق ہے اور بڑے بڑے مصائب شدائد سے مخلصی بخشتا ہے اور جس کی معرفت زیادہ کرنا چاہتا ہے ضرور اُس پر مصائب نازل کرتا ہے تا اُسے معلوم ہو جاوے کہ کیوں کر وہ نا امیدی سے امید پیدا کر سکتا ہے غرض فی الحقیقت وہ نہایت ہی قادر و کریم و رحیم ہے البتہ صبر چاہیے کہ ہر ایک چیز اپنے وقت سے وابستہ ہے جس قد ر ضعف دماغ کے عارضے میں یہ عاجز مبتلا ہے مجھے یقین نہیں کہ آپ کو ایسا ہی عارضہ ہو جب میں نے نئی شادی کی تھی تو مدت تک مجھے یہی یقین رہا کہ میں نامرد ہوں آخر میں نے صبر کیا اور دعا کرتا رہا تو اللہ جل شانہ نے اس دعا کو قبول فرمایا اور ضعف قلب تو اب بھی مجھے اس قدر ہے کہ میں بیان ہی نہیں کر سکتا خدا تعالیٰ سے زیادہ تر کامل معالج اور کوئی بھی نہیں ہماری سعادت اسی میں ہے کہ ہم بالکل اپنے تئیں لکھے اور بے ہنر سمجھیں اور ہر طرف سے قطع امید کر کے ایک ہی آستانہ کے منتظر ر ہیں سو اگر آپ مجھے بشرط صبر و شکیب رکھنے کی اجازت دیں تو میں اُسی کامل معالج سے آپ کے علاج کی درخواست کرتا رہوں گا بشرطیکہ آپ عجلت نہ کریں ۔ طلب گار صبور و حمول باند اب مجھے کسی تدبیر ظاہری پر اعتقاد نہیں رہا۔ میں جانتا ہوں کہ تدبیر صائب بھی تبھی سوجھتی ہے کہ جب خود قادر مطلق بند سے رہا کرنا چاہتا ہے مگر میں اس بات سے بہت ہی خوش ہوں ۔ اس طرح کہ جس طرح کوئی نہائت راحت بخش نشاط میں ہوتا ہے کہ ہم ایسا قادر و کریم اپنا مولا رکھتے ہیں کہ جو قدرت