مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 55
مکتوبات احمد ۵۵ جلد دوم بھی رکھتا ہے اور رحم بھی ۔ آج میں نے چار کتابیں سیالکوٹ میں رجسٹری کرا کر بھیج دی ہیں ۔ اطلاعاً لکھا گیا ۔ ۲۲ جنوری ۱۸۸۸ء والسلام خاکسار مکتوب نمبر ۳۶ غلام احمد از قادیان بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب سلمۂ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ہر دو عنایت نامے پہنچ گئے ۔ خدائے قادر ذوالجلال آپ کے ساتھ ہوا اور آپ کو اپنے ارادات خیر میں مدد دیوے ۔ اس عاجز نے آں مخدوم کے نکاح ثانی کی تجویز کیلئے کئی جگہ خط روانہ کئے تھے ۔ ایک جگہ سے جو جواب آیا ہے وہ کسی قدر حسب مراد معلوم ہوتا ہے یعنی میر عباس علی شاہ صاحب کا خط جو روا نہ خدمت کرتا ہوں ۔ اس خط میں ایک شرط عجیب ہے کہ حنفی ہوں ، غیر مقلد نہ ہوں ۔ چونکہ میر صاحب بھی حنفی اور میرے مخلص دوست منشی احمد جان صاحب ( خدا تعالیٰ ان کو غریق رحمت کرے ) جن کی بابرکت لڑکی سے یہ تجویز در پیش ہے۔ پکے حنفی تھے اور ان کے مرید جو اس علاقہ میں بکثرت پائے جاتے ہیں سب حنفی ہیں ۔ اس لئے حنفیت کی قید بھی لگا دی گئی ۔ یوں تو حنيفًا مُسْلِمًا میں سب مسلمان داخل ہیں لیکن اس قید کا جواب بھی معقولیت سے دیا جائے تو بہتر ہے ۔ اب میں تھوڑا سا حال منشی احمد جان صاحب کا سناتا ہوں ۔ منشی صاحب مرحوم اصل میں متوطن سا حال احمد صاحب کا سناتا ہوں۔ صاحب میں دہلی کے تھے ۔ شاید ایام مفسدہ ۱۸۵۷ء میں لودہا نہ آ کر آباد ہوئے ۔ کئی دفعہ میری ان سے ملاقات ہوئی۔ نہایت بزرگوار ، خوبصورت ، خوب سیرت ، صاف باطن، متقی ، با خدا اور متوکل آدمی تھے ۔ مجھ سے اس قدر دوستی اور محبت کرتے تھے کہ اکثر ان کے مریدوں نے اشارتا اور صراحتاً بھی سمجھایا کہ آپ کی اس میں کسر شان ہے۔ مگر انہوں نے ان کو صاف جواب دیا کہ مجھے کسی شان سے غرض نہیں اور نہ مجھے مریدوں سے کچھ غرض ہے۔ اس پر بعض نالائق خلیفے ان کے منحرف بھی ہو گئے مگر انہوں