مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 52
مکتوبات احمد ۵۲ جلد دوم مکتوب نمبر ۳۳ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عین حالت انتظار میں عنایت نامہ پہنچا۔ اللہ تعالیٰ بہت جلد آپ کو صحت کاملہ عطا فرمائے ۔ اگر چہ ہمیشہ آپ کے لئے دعا کی جاتی ہے مگر خاص طور پر آپ کی صحت کیلئے میں نے آج سے دعا کرنا شروع کر دیا ہے ۔ مجھے آپ کے اخلاق فاضلہ کہ گویا اس زمانہ کی حالت موجودہ پر نظر کر کے خارقِ عادت ہیں ، نہایت اطمینان قلبی سے یقین دلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا اور آپ کو اپنی رحمت خاصہ سے حظ وافر بخشے گا ۔ آپ کو خدا نے ذوى الايدى والابصار کا مرتبہ عطا کیا ہے ۔ اب لوازم اس مرتبہ کے بھی وہی دے گا۔ آپ کی ملاقات کو دل چاہتا ہے اور بعض احباب بھی آپ کی ملاقات کے بہت شائق ہیں جیسے بابو محمد صاحب کلرک دفتر انبالہ چھاؤنی اور بابو الہی بخش صاحب اکونٹنٹ ۔ سو بابو محمد صاحب سے اقرار ہو چکا ہے کہ جس وقت آپ تشریف لانا چاہیں تو دس پندرہ روز پہلے اُنہیں اطلاع دی جائے گی ۔ تب وہ رخصت لے کر عین موقعہ پر آ جائیں گے اور بابو الہی بخش صاحب کو بھی اطلاع دے دیں گے ۔ اس لئے مکلف ہوں کہ آں مخدوم عزم بالجزم کر کے ہمیں روز پہلے مجھے اطلاع دیں اور کم سے کم تین روز یا چار روز تک قادیان میں رہنے کا بندو بست کر کے مفصل اطلاع بخشیں کہ کس تاریخ تک پہنچ سکتے ہیں تا اسی تاریخ کے لحاظ سے وہ لوگ بھی آ جاویں۔ مجھے یہ بات سن کر نہایت خوشی ہوئی کہ تکذیب براہین کا رڈ آپ نے تیار کر لیا ہے۔ الحمد لله والمنة اس رڈ کے شائع ہونے کیلئے عام طور پر مسلمانوں کا جوش پایا جاتا ہے۔ شاید ڈیڑھ سو کے قریب ایسے خط آئے ہونگے جنہوں نے اس کتاب کے خریدنے کا شوق ظاہر کیا ہے ۔ میں نے ابھی کام ہر دور سالہ کا شروع نہیں کیا اب شاید ہمیں بائیس روز تک شروع کیا جائے ۔ عوام کو اس تاخیر سے جس قد ر غصہ و بدظنی عائد حال ہوئی ہے میں امید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ وہ سب دور کر دے گا ۔ اصل بات یہی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ راضی ہو تو انجام کار خلقت بصد ندامت خود