مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 479

مکتوبات احمد ۴۷۹ جلد دوم جس قدر جلد اس رسالہ کی فروخت ہو گی اسی قدر جلد تر رسالہ سراج منیر طبع ہو گا ۔ آٹھ سو روپیہ جمع تھا۔ وہ سب رسالہ سرمہ چشم آریہ پر خرچ ہو گیا ۔ اس رسالہ میں کچھ تو بوجہ علالت طبع اس عاجز اور کچھ گیا۔ دیگر موانع سے مطبع وغیرہ سے توقف ہوئی ۔ اب یہ رسالہ سرمہ چشم آریہ، امید قوی ہے کہ پندرہ روز تک من کل الوجوہ تیار ہو کر میرے پاس پہنچ جائے گا۔ چونکہ یہ رسالہ ضخامت میں بہت بڑا ہو گیا ہے اور خرچ بھی اس پر بہت ہوا ہے اور ابھی دوسو روپیہ دینا ہے اس لئے قیمت اس کی ایک روپے بارہ آنے مقرر ہوئی ہے جس زمانہ میں یونہی تخمینہ سے ۱۴ قیمت مقرر کی گئی تھی اس زمانہ میں آپ نے ڈیڑھ سو رسالہ کا فروخت کرنا اپنے ذمہ لیا تھا۔ پس اس حساب سے سنتیس روپے آٹھ آنے کا رسالہ آپ کے ذمہ فروخت کرانا ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر کر کے اگر آپ محض اللہ پوری پوری کوشش کریں اور جہاں تک ممکن ہو ، رقم کثیر جمع کرنے میں سعی مبذول فرماویں تو نہایت ثواب کی بات ہے۔ منجملہ اس کے پانسور و پیہ منشی عبدالحق صاحب اکو نٹنٹ شملہ کا ہے جو بطور قرضہ طبع رسالہ کے لئے لیا گیا۔ اور تین سو روپیہ چندہ کا ہے۔ اس میں بہت کوشش کرنی چاہئے تا سراج منیر کے طبع میں توقف نہ ہو ۔ امید ہے کہ یہ کوشش موجب خوشنودی رحمن ہو۔ آپ کے رفیق ہندو کو اس رسالہ کا پڑھنا مفید ہے اگر وہ غور سے پڑھے اور نجابت طبع رکھتا ہو۔ اور سعادت از لی مقدر ہو تو ہدایت پانے کے لئے کافی ہے۔ انشاء اللہ القدیر دعا بھی کروں گا۔ کبھی کبھی یاد دلاتے رہیں ۔ میرا حافظہ بہت خراب ہے۔ اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات ہو تب بھی بھول جاتا ہوں ۔ یاد دہانی عمدہ طریقہ ہے ۔ حافظہ کی یہ ابتری ہے کہ بیان نہیں کر سکتا ۔ والله في كل فعل حكمة ۔ والسلام خاکسار غلام احمد از صد را نباله حاطه ناگ پھنی