مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 432
مکتوبات احمد ۴۳۲ جلد دوم آپ کا اور ہمارا ساتھ ہے آپ نماز کی پابندی ملحوظ خاطر رکھیں ۔ بس یہی پہلی شرط ہے جس کو میں نے پہلی ہے جس کومیں شکریئے کے ساتھ قبول کیا ۔ دوسرے روز علی گڑھ روانہ ہو گئے اور وہاں کے حالات پر غور کیا گیا تو یہ روز ہو تو ایک دوسری دلیل ضرورت امام کے لئے ہاتھ آگئی یعنی دو نمونے دیکھے ۔ ایک تو اسٹر بچی ہال جس میں یورپین انداز وضع کا نقشہ تھا جو زبان حال سے کہہ رہا تھا کہ جو یہاں داخل ہوگا وہ ضرور ایک نہ ح ایک دن یورپین انداز کا جنٹلمین ہو جائے گا اور دوسرا نمونہ مسجد کا دیکھا جس کی ظاہری صورت یہ تھی کہ ایک دو پھٹے پرانے بوریئے اور دو چار ٹوٹے پھوٹے لوٹے ۔ گویا زبان حال ( سے ) اس کا یہ مضمون ادا ہورہا تھا کہ جو میری طرف رکوع و سجود کے لئے مائل ہو گا اس کی بساط پھٹے بوریئے اور پھوٹے ہوئے لوٹے کے سوا آگے وہی یعنی اللہ اللہ خیر صلا ۔ غرض یہ دونوں نظارے بھی ایک عبرت لینے کے باعث میرے لئے ہوئے ۔ پھر وہاں سے سیدھا قادیان شریف کا ارادہ ہوا۔ ہمارے مولوی صاحب نے بہت کچھ فال قرآن میں دیکھے اور استخارے بھی کئے ۔ غرض ہر ایک پہلو پر بھی ان کو جواب ملا کہ چلے چلئیے ۔ غرض روا نہ تو ہو گئے مگر مولوی صاحب کا شروع سے اخیر تک یہی بیان رہا کہ مرزا صاحب بڑے نیک آدمی ہیں مگر ان کا یہ دعوئی ان کی ظاہری وجاہت سے بہت کچھ بڑھا ہوا ہے۔ میں اس کے جواب میں کہتا تھا کہ اب جو کچھ ہے وہاں پہنچ کر ہی ہوگا ۔ جب امرتسر پہنچے تو وہاں مولوی محمد حسین صاحب کا کوئی چیلا ہم کو مل گیا اور اس نے مولوی صاحب کو بہت کچھ روکا اور با بو محکم الدین صاحب کی کوٹھی تک ہمارا پیچھا نہ چھوڑا اور بلائے بد کی طرح لگا رہا اور وہاں پہنچ کر بھی مولوی صاحب تو ان کو نرم نرم جواب دیتے رہے اور وہ زیادہ گستاخ ہوتا چلا ۔ یہاں تک کہ آخر مولوی صاحب نے میرے پر حوالہ دے کر اپنی جان چھڑائی ۔ جب وہ میری طرف ہوا تو میری دو ہی جھڑکیوں سے گھبرا گیا اور پھر بیٹھ نہ سکا یعنی دفعہ ہو گیا ۔ غرض شب ہم نے وہاں گزاری اور صبح کو بٹالہ کی راہ لی اور جب وہاں پہنچے تو وہاں بھی ایک سد راہ ہوا مگر زیادہ جرات نہ کر سکا اور ہم وہاں سے یکوں میں بیٹھ کر روانہ ہوئے اور جوں جوں دارالامان سے نزدیک ہوتے گئے ویسے ہی دل پر ایک نیک اثر ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ دارالامان کا نظارہ نظر آنے لگا اور جامع مسجد مجھے تو ایک بقعہ نور نظر آتی تھی۔ تھی ۔ اس سال بارش کثرت سے ہوئی تھی اس لئے پہنچنے میں دیر ہوئی ۔ جب یہاں پہنچے تو میری اپنی یہ