مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 431

مکتوبات احمد ۴۳۱ جلد دوم چونکہ قدیم سے ان کے بزرگوں کے ساتھ میرا کمال درجہ کا ارتباط تھا۔ اس لئے بظاہر ان سے وہی ۔ ان کے بزرگوں کے ساتھ میرا سلوک قائم تھا اور اب تک بھی باقی ہے ۔ غرض وہاں ان مولوی صاحب سے میں نے کہا کہ سب سے ۔ بہتر یہی بات ہے کہ تم میرا ساتھ دو اور میں آپ کے ہر قسم کے اخراجات کا کفیل اور ذمہ دار ہوں ۔ ۔ جو کچھ امتحان کرنا ہے وہاں جا کر کیا جاوے۔ اس میں بڑے بڑے فائدے ہیں روبرو جا کر جو چاہیں پوچھ سکتے ہیں ۔ اس سے خلق خدا کو بھی فائدہ پہنچے گا ۔ کیونکہ آجکل جو طوفان بے تمیزی پھیل رہا ہے۔ اسی سے خلق اللہ کو نجات ہوگی اور میں نے آپ کو اس لئے تجویز کیا ہے کہ بظاہر آپ کے مزاج میں حق پسندی ہے اور تمہارے طالب علمی کے زمانہ سے میرا یہ حسن ظن ہے ۔ پس آپ تیار ہو جا ئیں ۔ جمعہ کے دن یہاں سے روانہ ہو جائیں گے مگر ان کو یہ کب منظور تھا ۔ ان کو مخالفت میں اس وقت صریح فائدہ نظر آ رہا تھا ۔ غرض انہوں نے انکار کر دیا اور میں واپس چلا آیا اور اسی خیال میں تھا کہ مولوی حسن علی صاحب مرحوم یاد آگئے اور وہ ان دنوں مدراس آنے والے بھی تھے کیونکہ انجمن کی طرف سے سالانہ جلسہ کی دعوت ان کو ہوئی تھی اور اس انجمن کے دراصل بانی وہی تھے ۔ لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ بھا گلپور سے مولوی صاحب نکل چکے تھے اور یہاں دو مہینے کے لئے جلسہ ملتوی ہو گیا ۔اس لئے مجھے یہ موقع خوب ہاتھ آیا اور فی الفور میں نے بمبئی کی اپنی دوکان پر تار دی کہ مولوی صاحب کو ٹھہراؤ اور میں آتا ہوں ۔ یہ تار دے کے میں بنگلور گیا اور رات کو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میں ارادہ کر چکا ہوں اب تو عالم الغیب اور بہتر جانتا ہے۔ میرے لئے جوئ جو بہتر ہے وہ مہیا کر۔ صبح کو میں حسب معمول ناشتہ کر کے گھر سے باہر چبوترہ پر آکر بیٹھا کہ اسی وقت ڈاک والا آگیا اور اس نے ایک چھٹی اور اس کے ساتھ ایک رسالہ الحق دیا۔ میں نے اس رسالہ کو کھولا تو میری نظر سب سے پہلے اس ہیڈنگ پر پڑی جو ایک بھاری بشارت سے موسوم تھا اور مضمون اس کا جھنڈے والے پیر صاحب کا واقعہ اور خلیفہ عبداللطیف اور عبد اللہ عرب کا حضور اقدس میں حاضر ہونے کا تھا۔ غرض اس اس ۔ کے بعد میرا عزم مصم ہو گیا اور اور اسی اسی روز روز شام شام کو لو مد مدراس راس او اور دوسرے روز مدراس سے بمبئی روانہ ہو گیا اور مولوی حسن علی صاحب مرحوم سے ملاقات ہوئی اور چلنے کی بابت گفتگو ہوئی ۔ مولوی صاحب مرحوم نے حق مغفرت کرے، رت کرے، جواب میں یہ فرمایا کہ میں آپ کا ساتھ دینے کے لئے تو تیار ہوں مگر ایک شرط سے ۔ میں نے کہا وہ شرط فرمائیے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سفر میں جب تک