مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 433

مکتوبات احمد ۴۳۳ جلد دوم حالت تھی کہ ذوق اور محبت سے بھر گیا تھا اور عجیب و غریب لذت اپنے اندر محسوس کر رہا تھا ۔ غرض ہم قادیان پہنچے اور مولانا مولوی نورالدین صاحب کے مدرسہ اور مطب کے پاس یکے کھڑے ہو گئے اور ہم دونوں اتر پڑے غروب آفتاب کا وقت تھا ۔ مولوی حسن علی صاحب نے مولوی نورالدین صاحب سے مجھے تعارف کرایا اور میں ان سے مصافحہ کر کے پاس بیٹھ گیا۔ اتنے میں کسی نے آکر خبر دی کہ وہ نیا مکان جو تیار ہوا ہے اس میں ان مسافروں کا اسباب بھیج دو۔ مولوی حسن علی صاحب اسباب کے ہمراہ اس مکان کو تشریف لے گئے اور میں نماز عصر پڑھ کر مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں بیٹھا ہی تھا کہ ایک شخص نے آکر خبر دی کہ حضرت اس نئے مکان میں آ کر تشریف فرما ہوئے ہیں ۔ تو میں یہاں سے اُٹھا اور جلد اس مکان میں داخل ہوا اور میری نظر حضور کے چہرہ مبارک پر پڑی ۔ میں حلفا گزارش کرتا ہوں کہ حضور کا سراپا اس وقت ایک نور مجسم مجھے نظر آیا اور میں آنکھ بند کر کے حضور کی دست بوسی کرنے لگا اور جوش محبت کے ساتھ میری آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ اور حضور اس کے بعد کمال مہربانی اور شفقت سے احوال پرسی فرماتے رہے اور میرا حال یہ تھا کہ اندر ہی اندرمولوی حسن علی صاحب کو ملامت کرتا تھا کہ انہوں نے حضور کی ظاہری وجاہت کیا بتلائی تھی اور یہاں کیا کچھ نظر آ رہا ہے اور منتظر تھا کہ حضور یہاں سے تشریف لے جائیں تو ان کی خبر پورے طور سے لوں ۔ یہ میرا خیال ہو چکا اور حضور اقدس و اشرف بھی اسی وقت اندر تشریف لے گئے اور جونہی میں مولوی حسن علی صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔ انہوں نے بلند آواز سے اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ خدا کی قسم یہ وہ مرزا نہیں جن کو کچھ برس پہلے میں نے دیکھا تھا یہ تو کوئی اور ہی وجود نظر آ رہا ہے۔ غرض کہ ظاہری وجاہت میں بھی حضور کی بہت کچھ ترقی انہوں نے بیان فرمائی اور اسی وقت کہہ دیا کہ بے شک اب یہ وہی نظر آ رہے ہیں جس کا ان کو دعویٰ ہے اور مجھے کہا کہ بے شک تم بیعت کرلو ۔ چونکہ میں نے اپنی بھی ان سے غرض بتائی تھی کہ فقط اس لئے آپ کو ساتھ لیتا ہوں کہ موقع پر آپ مجھے نیک اور میرے مناسب مشورہ دیں ۔ پس اسی طرح انہوں نے مجھے فی الفور کہہ دیا اور میری اندرونی حالت یہ تھی کہ اگر ایک نہیں ہزار دفعہ بھی اس کے خلاف اگر وہ مشورہ دیتے تو میں حلقہ بگوش ہوئے بغیر اس مبارک آستانہ سے جدا نہ ہوتا ۔ مگر الحمد للہ کہ فی الفور مولوی صاحب نے مجھے میری دلی آرزو کے مطابق کہہ دیا ۔ لیکن ان کا خاص ارادہ بالکل اس امر پر نہ تھا۔ ان کے لئے امر پر نہ