مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 428

مکتوبات احمد ۴۲۸ جلد دوم تھا اور ہر ایک قسم کی طبیعتوں کا اور اخلاق کا خوب پتہ مل جاتا تھا۔ یہ تو عام مفید کاموں کے جلسہ کا حال ہوا۔ اب خاص خاص قسم کے لوگوں کے جلسے اور تقریبات کا حال ، جس کا مجھے تجربہ ہوا ہے، لکھنے بیٹھوں تو بہت طول ہوتا ہے اس لئے صرف ہمارے تجارت پیشہ لوگوں کا ہی مختصر حال لکھتا ہوں کہ مجھے ہمیشہ سے یہ آرزو رہی کہ زیادہ نہیں صرف دو مسلمان تاجروں کے کسی تجارت کے کام میں اتفاق اور یک دلی سے کام کرتے دیکھوں جس سے وہ نتیجہ جو اتفاق کے لئے لازمی ہے ان کو حاصل ہوا ہو لیکن یہ میری آرزو نا تمام ہی رہی ۔ یوں تو بہتوں کو اتفاق کرتے دیکھا مگر انجام اس کا ایک تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بد نظر آیا۔ کہیں تو کورٹ کچہری میں خراب ہوتے دیکھا اور کہیں ہمیشہ کے لئے عداوت اور کہیں ہمیشہ کے لئے آپس میں کمپیٹیشن پڑ گیا اور دونوں کو خراب کر دیا۔ غرض اس طرح کے بہت تجربے اور مشاہدے کے بعد میرا یہ دستور ہو گیا تھا کہ جہاں کہیں کسی امر کے متعلق بھی ہو، مسلمانوں کی مجلس ہوتی تو پہلے اس مجلس میں یہ دعوے سے میں کہہ دیتا تھا کہ مجھے ایک مدت دراز سے یہ آرزو ہے کہ مسلمان اپنی مجلس میں کامیاب ہوتے ہوئے دیکھوں مگر میری یہ آرزو پوری نہ ہوئی اور میری یہ عادت مدراس تک ہی محدود نہ تھی ، جہاں کہیں جانے کا اتفاق ہوتا تھا ۔ یعنی بمبئی ۔ بنگلور ۔ مدراس ۔ نیلگری تو موقعہ پر ضرور یہ میں کہہ دیتا تھا اور پھر مخاطب بھی ( قائل ) ہو جاتے تھے ۔ غرض مسلمانوں کے حالات اور عادات پر ہمیشہ رنج ہوتا ہی رہتا تھا۔ یورپ کے تو اتحاد اور اتفاق کا کہنا ہی کیا ہے۔ اکثر کام ان کے اتفاق اور شرکت اور یک دلی کی بدولت ترقی کے انتہائی نقطہ تک پہنچے ہوئے ہیں مگر اس صورت میں بھی مسلمانوں کے سوائے دوسری قوموں میں پھر بھی کچھ نظر میں آجاتا ہے۔ چوہڑے چمار بھی اپنی بساط کے موافق کبھی نہ کبھی کسی کام میں متفق ہو جاتے ہیں مگر مسلمانوں میں اس کے برخلاف، کیا عام کاموں میں اور کیا خاص میں ، پھر وہ دینی ہو یا دنیوی اور کسی ملک میں بھی یعنی عرب ، عجم ، ہند اور سند ، دکھن اور کوکن جہاں تک مجھے علم ہے ، ایک نمونہ بھی نظر نہیں آتا ۔ غرض ہر ایک موقعہ پر مسلمان بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور اگر کسی جگہ اتفاق سے کوئی مسلمان سرکاری کام و کاج میں کوئی اعلیٰ مرتبہ پر آجاتا ہے تو گویا اس کے لئے یہ مثال موزوں ہو جاتی ہے کہ مور ہماں بہ کہ نباشد پرش ۔ الا ماشاء الله - غرض یہ میرے خیالات اور مشاہدے مجھے پریشان ہی نہیں بلکہ استعجاب میں بھی ڈال دیتے تھے کہ یا اللہ ! اسلام تو تیرا ہے مگر مسلمانوں کی حالت ایسی زار تیرا ہے اب