مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 429
مکتوبات احمد ۴۲۹ جلد دوم اور قابل عبرت کیوں ہو گئی ہے؟ کوئی ایک پہلوان کا یعنی کیا عبادات اور کیا معاملات سیدھا اور حق پر نظر نہیں آتا اور حالت ایسی ہو گئی ہے بجز تیرے فضل کے یعنی مردے از غیب بروں آید و کارے بکند کے اور کوئی رستگاری کی صورت نظر نہیں آتی ۔ غرض اسی حالت میں حضور کی کتاب فتح اسلام کو میں نے سنا اور اندر کا اندر ہی میں باغ باغ ہو گیا کہ آخر خدا نے ایک کو کھڑا ہی کر دیا اور پھر اسی کو جس کا زمانۂ رسول کے بعد وقتاً فوقتاً انتظار ہوتا رہا اور کئی جھوٹے مدعی بھی اس نام کے زمانہ قرب زمانہ رسول سے ہوتے آئے مگر اب تو گویا عین وقت پر اور وہ بھی اشد ضرورت کے وقت ہی آواز آئی ہے۔ سو یا اللہ ! تو اس آواز کو سچی اور مسلمانوں کے لئے مبارک ثابت فرما آمین ۔ یہ میری سو یا اندرونی حالت تھی اور میرے مرحوم بھائی نے تو گویا بآواز بلند شہادت بھی دے دی اور الحمد للہ والمنتہ کہ خدا تعالیٰ نے ویسا ہی ثابت کر دکھایا اور باغ اسلام میں دوبارہ گئی ہوئی بہار اور رونق آتی چلی ہے ۔ غرض اس موقع کے بعد کتا بیں بھی آگئیں اور ان کے پڑھنے سے کچھ کچھ فہم بھی پڑتا گیا اور مدراس میں چر چا بھی ہوتا چلا ۔ جو یک بیک ایک اخبار آزاد نام جو لکھنو سے شائع ہوتا تھا۔ اس میں یہ لکھا ہوا دیکھا کہ میرزا قادیانی اپنے دعوائے مسیحیت سے دست بردار ہو گئے اس لئے اب پھر ان کی عزت وہی قائم رہ گئی جو اس دعوی کے قبل تھی ۔ یہ مضمون تھا عبارت میں کچھ فرق ہو گا مگر اس کے پڑھنے سے میرے پر جو صدمہ گزرا اور رنج ہوا اس کو خدا ہی جانتا ہے اور ابھی تک میں اس کو بھولا نہیں ۔ غرض اس کے بعد میں نے جب حضور کی کتابیں ایک طرف ڈال دیں اور ایسی چالوں سے اور اداسی میرے پر چھا گئی کہ کچھ نہیں لکھ سکتا ۔ باوجود اس کے بھی ہونے سے صد ہا لوگوں کو میں نے گویا یہ خوشخبری پہنچائی تھی اور اب گویا اس کے خلاف اخباروں میں شائع ہو گیا ہے۔ غرض اس مضمون کے دیکھنے کے بعد دوسرے یا تیسرے دن بمبئی سے میرے بھائی کا تار آیا اور میں روانہ ہو گیا اور وہاں اپنے ایک دوست سے افسوس ناک دل سے میں نے یہ تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ تو اپنے دعوئی پر قائم ہیں چنانچہ ان کے ایک خاص مرید یہاں آئے ہوئے ہیں اور ان کی زبانی مجھے یہ سب کچھ معلوم ہوا ہے ۔ اب اس موقع پر مجھے جو خوشی ہوئی گویا اس رنج سے وہ چند زیادہ تھی اور وہ مرید گویا ہمارے ہمارے شیخ شیخ رحمت اللہ صاحب تھے جن سے دوسرے روز میری ملاقات ہو ہو گئی اور مفصل حالات بھی معلوم ہوئے اور کتاب آئینہ کمالات اسلام کی خبر پاکے انہیں کو میں نے جلد وی پی مدراس