مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 427
مکتوبات احمد ۴۲۷ جلد دوم مسیحیت کے دعوی پر کچھ تعجب سا رہا اور اس کے ساتھ یہ خیال بھی رہا کہ مسیح کے لئے تو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ آسمان پر موجود ہے اور پھر اپنے وقت پر وہاں سے زندہ نزول فرماویں گے۔ اور کسی پر سے زندہ اور طرح کا اس میں اختلاف نہیں ۔ غرض اس وقت یہ فیصلہ کیا کہ خواہ کچھ ہی ہو مگر کتا بیں تو سب منگوا کر دیکھنی چاہئیں اور اس طرف مرحوم بھائی کا بار بار یہ کہنا کہ یہ بے شک اپنے قول میں صادق ہیں اور بہت جلد لوگوں پر یہ امر کھل جاوے گا ۔ حالانکہ ان کی بہت ہی کم استعداد تھی مگر جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا ہے، بڑے ہی ذکی الطبع تھے اور ان کی طبیعت ملانوں اور پیر زادوں سے ہمیشہ متنفر رہا کرتی تھی یہاں تک کہ اگر کبھی مجھے کسی سے ملتے ہوئے دیکھ لیتے تھے تو صاف کہہ دیتے تھے کہ آپ کو ان مکاروں سے ہمیشہ دور رہنا چاہے۔ ان کی صحبت میں کبھی خیر نہیں ۔ لیکن حضور اقدس کی کتاب کو سنتے ہی ان کا یقیناً قبول کر لینا ان کی کمال فراست کی پوری دلیل تھی ۔ غرض میں دوسرے دن مدراس کو روانہ ہوا۔ اور یہاں پہنچ کر سب کتابوں کے لئے خط لکھوایا اور جس کسی سے ملاقات ہوتی ان سے یہ تذکرہ کرتا اور پھر ساتھ ہی موجودہ وقت کی ہر قسم کی برائیوں کی طرف ان کی توجہ دلاتا اور اس وقت تک میری نظر صرف مسلمانوں ہی تک محدود تھی ۔ یعنی ہر طبقہ کے مسلمانوں کی ہی حالت پر میری نظر تھی جس کے مشاہدہ سے ہمیشہ دل کو درد پہنچتا تھا۔ جب کبھی کوئی عام مفید کام کے لئے جلسہ ہو جاتا تو پھر جو چند حضرات موجود ہو جاتے تھے ان کی صورت اور سیرت ، طرز گفتگو اور پھر ایک دوسرے کو باہم دیکھا جاتا۔ اس کی بابت ذکر کروں تو شاید طول ہوتا ہے مگر مختصر الفاظ اس کے یہ ہیں کہ پوری پوری یہودیت ثابت ہو جاتی تھی ۔ یعنی جس غرض کے لئے جلسہ کیا وہ تو نا تمام ، اور تمام ہو بھی کس طرح ۔ جب ایک دوسرے کی رائے کے تابع ہونے کو ایک سبکی اور ذلت کا موجب سمجھا جاتا ہو ۔ آخری جو کچھ کہ اس جلسہ سے نتیجہ حاصل ہوتا وہ یہی کہ دو چار صاحبوں میں تو ضرور ہمیشہ کے لئے نفاق پڑ جاتا اور باقی بھی ایک دوسرے پر ضرور کچھ نہ کچھ الزام لگائے بغیر خالی نہ رہتے ۔ غرض جو صاحب یا صاحبان اس جلسہ کے بانی ہوتے ان کو بجز خفت کے کچھ حاصل نہ ہوتا اور پھر ہمیشہ کے لئے شاید دل میں عہد کر لیں کہ آئندہ کبھی ایسی بے جا حرکت نہ کریں گے۔ غرض یہ اس قسم کی مجلسیں تھیں جن میں ہر قسم کے اور طائفہ کے لوگ جمع ہو جاتے تھے۔ عالم ، مولوی ، خاندانی بیو پاری ، نوکری پیشه، زمیندار وغیرہ وغیرہ گو یا سب قسم کے لوگوں کا مجموعہ ہوتا