مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 426

مکتوبات احمد ۴۲۶ جلد دوم نہ بناوے ۔ غرض اسی حالت میں میرے بھائی حاجی ایوب فوت ہو گئے جن کا مجھے بہت رنج ہوا اور رگئے جن کا مجھے بہت رنج عبرت بھی ہوئی۔ ان کے بعد میرا چھوٹا بھائی زکر یا بیمار ہوا۔ دو بڑے بھائی تو گویا الگ ہو چکے تھے۔ مگر ز کر یا میرے ساتھ تھے۔ بمبئی میں ان کی عزت ہر ایک طرح سے اچھی تھی ۔ تجارتی کاروبار میں مالی تائید ان سے ہی ملتی تھی ۔ اب ان کا بیمار ہونا دو طرح کے رنج کا باعث ہو گیا جس کے سبب سے بڑی پریشانی رہا کرتی تھی اور یہ قریب قریب وہی زمانہ ہے جس میں میں نے دولاکھ روپے کے خسارہ کا ذکر کیا ہے۔ غرض جب ان کی علالت زیادہ ہو گئی تو میں نے بنگلور میں ایک مکان خریدا اور تبدیل آب و ہوا کے لئے ان کو یہاں لے آیا۔ ہر ہفتہ میں دو دن میں ان کے پاس رہتا اور باقی دن مدراس میں ۔ دوسرے افکار کا بوجھ جو اس وقت میرے سر تھا اس کا ذکر میں کچھ نہیں کرتا۔ بس اتنا ہی کافی سمجھتا ہوں کہ میں کہہ دوں ہے دل من داند و من دانم و داند دل من غرض ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ میں جمعہ کی شام کو مدراس سے چل کر ہفتہ کی صبح کو بنگلور پہنچا اور بھائی کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک منشی صاحب بھی اس وقت پاس بیٹھے تھے ۔ اِدھر اُدھر کی بات چیت ہو رہی تھی اور موجودہ زمانہ کی حالت زار کا ذکر ہو رہا تھا۔ اور اسی اثنا میں میرا چھوٹا بھائی محمد صالح جو ایک روز پہلے سے بنگلور آیا ہوا تھا ، وہاں آگیا اور ایک کتاب بھی ساتھ لایا اور وہ یوں کہنے لگا کہ یہ کتاب مجھے سیالکوٹ ( پنجاب ) سے منشی غلام قادر فصیح نے بھیجی ہے اور قابل پڑھنے اور سننے کے ہے ۔ یہ کہہ کر انہوں نے اس کو پڑھنا شروع کیا۔ اور وہ کتاب حضور اقدس کی پہلی کتاب دعوی مسیحیت اور مہدویت کے بعد کی تھی ۔ جس کا مبارک نام فتح اسلام ہے۔ غرض اس کتاب کے کوئی دو ورق پڑھنے کے بعد میرے دل پر کس قسم کا اثر ہوا ، میں اس کو بیان نہیں کر سکتا ۔ مگر میرے بیمار بھائی زکریا مرحوم نے اسی وقت ایک جوش کے ساتھ بآواز بلند کہہ دیا کہ خدا کی قسم ! یہ بے شک وہی ہیں اور ان کا کلام اس کی پوری پوری شہادت دے رہا ہے۔ غرض ان کے اس کہنے پر میں اور وہ منشی صاحب بھی میرے ساتھ ہم آواز ہو گئے کہ بے شک یہ کلام کوئی نرالا اثر دل پر کر رہا ہے اور پھر دیر تک اس کو سنتے رہے یہاں تک کہ اوّل سے آخر تک اس کو پورا سن لیا اور مجھے حضور کی طرف پورا پورا یقین ہو گیا ۔ مگر اور مجھے حضور کی طرف پورا پورا یقین ہو گیا۔ مگر