مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 425
مکتوبات احمد ۴۲۵ جلد دوم یہاں تک کہ میں نے اپنے بعض دوستوں بعض دوستوں کو بعض کا ۔ کاموں سے روکا جو بظاہر اس وف بظاہر اس وقت ان کے لئے مفید تھے مگر در حقیقت میری نظر میں جو اس حالت سے گزر کر خوفناک اور مضر ہو گئے تھے۔ غرض انہوں نے میری بات نہ سنی اور خرابیوں میں مبتلا ہو گئے اور اکثر اب تک میں ایسا ہی دیکھتا آیا ہوں یعنی جس پہلو کو کچھ مدت پہلے جیسا میں نے تصور کیا تھا آخر وقت پر وہ ویسا ہی ثابت ہوا۔ اور اس سے یہ امر میری طبیعت میں پیدا ہو گیا کہ ایک چھوٹی سی بات پر بھی زیادہ غور کرتا اور ایک ادنی کام کو بھی بے سوچے کرنا میری طبیعت کے خلاف ہو گیا اور ہر ایک پہلو سے زمانہ کو نازک سمجھنے لگ گیا ۔ اسی عرصہ میں کچھ خسارہ بھی اُٹھایا اور کچھ لوگوں کے حالات کا تجربہ بھی ہو گیا ۔ غرض یہ کہ جیسا کہ میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ ابتدائی عمر کے حصہ کو خیر و خوبی کا مجموعہ بتایا ہے اس سے وہ چند زیادہ شر وفساد کا مجموعہ اپنی عمر کے اس آخری حصہ کے زمانہ کو میں نے پایا اور اگر اس کی تفصیل لکھنے بیٹھوں تو شاید میرے ذاتی تجارب کی ایک بڑی کتاب بن جاوے۔ اور میں نے ہر ایک پہلو کو نہ فقط اپنے ہی تجربے اور مشاہدہ پر چھوڑا۔ بلکہ ہر ایک پہلو کے پختہ کار لوگوں کی شہادت بھی میں نے لی اور ہمیشہ ایک خوفناک حالت زمانہ میں زندگی بسر کرتا رہا اور خاص کر تجارت کی حالت گذشتہ دس سال سے ایسی نازک ہوتی چلی آئی ہے کہ ہمیشہ زوال عزت و ناموس عزت کا دھڑ کا دل کو لگا رہا اور شاید ۱۸۹۱ء اور ۱۸۹۲ء میں دولاکھ روپے کا خسارہ مجھے ایک ایکسچینج میں بھگتنا پڑا۔ مگر خدا تعالیٰ نے مجھے ٹھوکر سے بچالیا الحمد للہ علی ذلک ۔ غرض اس کے بعد میں ہمیشہ تفکرات کے دریا میں ڈوبا رہا اور زندگی گویا تلخ معلوم ہوتی تھی ۔ ایک طرف تو معاملہ کی کچھ ایسی حالت دوسری طرف کچھ اپنی سیہ کاریاں اور تیسرا یہ کہ جس پہلو کو ایک راحت کا موجب سمجھ کر اختیار کیا جاتا تو وہاں سے بجز نفاق اور بداندیشی کے کچھ نظر نہ آیا۔ وہ راحت جس کو حاصل کرنا مقصود کرتا وہ تو رہی ایک طرف ، باقی رنج پہلے سے وہ چند ہو گیا۔ غرض میں سچ سچ عرض کرتا ہوں کہ ایسی حالت دیکھ کر میں موت کو زندگی پر ترجیح دیتا تھا اور کسی کسی وقت میں اپنی سیہ کاریوں کے تصور میں رو پڑتا تھا اور اپنے آپ کو بدترین مخلوق سمجھتا تھا اور باقی میری طبیعت میں غیر کا لحاظ ابتدائے عمر سے چلا آیا ہے وہ اخیر تک رہا ، کسی کو بھی کسی قسم کا آزار پہنچانا میں خطر ناک ، براسمجھتا تھا اور اللہ تعالیٰ سے اکثر اس امر کی توفیق طلب کرتا رہتا تھا کہ وہ مجھے کسی کے آزار کا موجب