مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 424

مکتوبات احمد ۴۲۴ جلد دوم اخلاص - حیا ۔ شرم - حفظ مراتب ۔ ہمدردی ہر ایک قسم کے لوگوں میں پائی جاتی تھی ۔ گویا آسمان - حیا۔ - سے خیر و برکت کی بارش برس رہی تھی علی العموم جمعیت خاطر کے آثار نظر آتے تھے اور ابھی تک گویا وہ منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔ اس کے بعد عمر کا دوسرا ثلث ہے جس کی نسبت جی نہیں چاہتا کہ کچھ لکھوں صرف اس قد را شارہ کافی سمجھتا ہوں کہ بتدریج اس ابتدائی حصہ کی خوبیاں جن کو میں نمونے کے طور پر لکھ آیا ہوں رُوبہ کمی ہوتی گئیں اور آخر حصہ میں وہ سب کی سب کا فور ہو گئیں اور ان کی جگہ نا گفتہ بہ باتوں کا مجموعہ اپنے اندر جمع ہو گیا اور صحبت اور مجلس بھی ویسی ہی رہتی تھی ۔ غرض جب تیسرے حصہ کا آغاز ہونے لگا ۔ شاید عمر بھی چالیس سے متجاوز ہوگئی تو کچھ کچھ آنکھ کھلنے لگی گو کسی قدر حالات وہی دوسرے حصہ کے باقی اور قائم رہ گئے صرف اتنا فرق پیدا ہوا کہ اپنی حالت کو غور سے دیکھنے لگ گیا اور اچھے اور بُرے میں تمیز ہونے لگ گئی ۔ والدین وغیرہ تو گویا سر پر سے اُٹھ گئے تھے ۔ اب نوبت اپنے ہمنشینوں کی آئی جو کسی قدر معمر تھے وہ بھی باری باری اٹھنے لگے اور عبرت ناک حالات بھی پیش ہونے لگے ۔ کچھ تو اپنی نالائق زندگی کا غم اور کچھ تغیرات زمانہ کا رنگ دل کو پکڑتا گیا مروّت محبت اپنے بیگانے سے اُٹھنے لگی ، دوست دشمن سے بدتر نظر آنے لگے ، گھر کی بات بگڑنے لگی ۔ ہم آٹھ بھائی تھے چھ حقیقی اور دو چا زاد اور پھر سب با عیال و اطفال بلکہ بھتیجے تک صاحب عیال و اطفال ، سب مل ملا کر کوئی پچاس آدمی کا مجموعہ تھا مگر سب کے سب مل کر اچھی طرح سے گزارتے تھے ۔ کوئی کسی کا بار خاطر نہ تھا اور کسی کو کسی کے لئے خرچ کرنا گراں نہیں گزرتا تھا۔ چچا زاد گو یا حقیقی بھائیوں سے زیادہ عزیز تھے مگر اب اس میں بھی فرق آنے لگا اور ایک دوسرے کے درپے ہو گیا ۔ اتفاق کی صورت میں فرق آتا گیا گو چندے بات سنبھلی رہی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس عاجز کا رعب سب گھر والوں پر تھا، کسی کو کسی قسم کی سبقت کی جرات نہ ہو سکتی تھی ۔ مگر چونکہ صورت اتفاق میں فرق آگیا تھا اس لئے زندگی بے لطف سی ہو گئی اور پھر علیحدہ ہونے کی نوبت آ پہنچی اور سب کے سب یکے بعد دیگرے الگ ہو گئے ۔ صرف ایک میرا بھائی زکریا میرے ساتھ رہا۔ اور کارخانہ بھی ہمارے ہی سر پڑا ۔ کوئی دس برس کا عرصہ گزرتا ہے کہ میں قسم قسم کے ابتلاؤں میں پڑا اور کوئی پہلو زمانہ کا ایسا نہ رہا جس سے مجھ کو سابقہ نہ پڑا ہو۔ اور ہر ایک پہلو پر تغیرات کمی کا اثر محسوس ہونے لگا اور ساتھ اس کے میری زبان پر اس کا شکوہ اور گلہ بھی رہا