مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 423
مکتوبات احمد متعلق بھی شوق ہو چلا ۔ ۴۲۳ جلد دوم یا امام همام علیہ الصلوٰۃ والسلام ! میرا اس قدر طوالت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کرنے سے مدعا یہ ہے کہ یہ گویا میری ابتدائی عمر کا ایک ثلث ہے جس کو آج بھی میں یاد کرتا ہوں تو میرے آنسو نکل پڑتے ہیں ۔ وہ کیا ہی مبارک حصہ زندگی کا تھا جس میں ہر ایک قسم کی خیر و خوبی جمع تھی ۔ تجارت ایک محدود دائرہ کے اندر چلتی تھی ۔ اکثر اسباب بمبئی سے آیا کرتا تھا بمبئی سے بنگلور شاید اڑھائی اور تین مہینے کے اندر اسباب پہنچتا تھا اور جب پہنچتا تھا تو ایک دم ہی تیس چالیس گاڑیوں میں کئی تاجروں کا مال آجاتا تھا گویا ایک قافلہ کی حیثیت ہوتی تھی اور پھر اس اسباب کے آنے سے جو رونق بازار کی ہوتی تھی اس کا نقشہ ابھی تک میری آنکھوں کے سامنے ہے غرض ہیں سے لے کر چالیس فیصدی کے قریب نفع پر وہاں کے چھوٹے چھوٹے بیو پاری مال خرید لیتے تھے اور چار سے چھ قسط میں روپیہ ادا کرنے کی شرط ہوتی تھی اور اس طرح پر سال میں میں ہزار کے قریب قریب ہماری تجارت چلتی تھی ۔ اور سال میں آٹھ مہینے راستہ کھلا رہتا تھا اور چار مہینے بند ۔ یعنی موسم کے مخالف ہونے کی وجہ سے جہاز رانی موقوف رہتی تھی ۔ یہ گویا معاش کا ذریعہ اور اس وقت کی تجارت کی حالت تھی ۔ اب رہا دوسرا پہلو یعنی خانہ داری کا سو ملاحظہ فرمائیے کہ ہمارے والد اور چچا نے زندگی تک رفاقت کی ۔ ۔ رہائش اور تجارت میں اس وقت شاید پچیس کے قریب آدمی ہمارے کنبے میں ہوں گے جو ایک ہی مکان میں رہتے تھے۔ کوئی تین روپیہ کرا یہ ماہوار کا مکان تھا جس میں اچھی طرح سے اوقات بسری ہوتی تھی۔ میرے چچا شاید تمہیں رو پیدا اور میرے والد پندرہ روپیہ ماہوار خرچ کے لئے اُٹھایا کرتے تھے۔ ہر ایک چیز ارزاں تھی۔ گھی کی شاید دو سوا دو روپیہ فی من قیمت تھی اور عمدہ سے عمدہ چاول کی قیمت پونے دو سے دو روپیہ تک فی بستہ تھی۔ علی ہذا القیاس ہر ایک خوردنی چیز کا یہ حال تھا اور اس زمانہ میں جو لذیذ اور لطیف غذاؤں کا استعمال ہوا کرتا تھا آج اس کا نام ونشان بھی نظر نہیں آتا۔ ہمدردی اپنے اور بیگانے سے ایسی تھی کہ شادی اور غنمی دونوں پہلوؤں کا اثر صاحب خانہ کے برابر دوسروں پر ہوتا تھا۔ خیراتی کاموں کی نگرانی صدق اور اخلاص اور محبت سے ہوا کرتی تھی ۔ بدستور فقراء اور علماء میں سیر چشمی نظر آتی تھی اور طالب ضرور ایک حد تک مستفیض ہو جاتے تھے ۔ ادنی درجہ کا آدمی یعنی ایک دور و پیر کا معاش رکھنے والا بھی خورم و خنداں نظر آتا تھا ۔ مروّت ۔ محبت ۔ صدق ۔ - - -