مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 422

مکتوبات احمد ۴۲۲ جلد دوم تھے اور معاملہ فہم تھے مگر ہم دونوں بھائی کم سن اور نو آموز ۔ غرض والد صاحب کے تشریف فرما ہونے کے بعد چھوٹا بھائی زکر یا مدراس کو اپنی خاص دوکان پر روانہ ہو گیا۔ چونکہ وہ میرے سے زیادہ معاملہ فہم اور طبیعت کا ہر ایک طرح سے تیز تھا اس لئے میرے بڑے بھائی نے ان کو وہاں روانہ کر دیا اور میرے دوسرے چچا زاد بھائی کو الگ دوکان پر بٹھایا اور اپنے تئیں مجھے بڑی دوکان کے لئے تجویز فرمایا۔ اور بعد اس کے خود بھی جلد کسی کام کے پیش آجانے سے مدراس روانہ ہو گئے اور میں اکیلا یہاں دوکان پر رہ گیا اور اس وقت تک میں گویا ایک آزاد زندگی بسر کرتا تھا اور اب پابند ہو گیا اس لئے اب کچھ کچھ بوجھ معاملہ کا اور خانہ داری کا محسوس ہونے لگا۔ چونکہ ابتدا سے ہمارے چچا زاد بھائیوں کا کھانا پینا الگ ہی تھا صرف معاملہ شرکت کا تھا۔ غرض ہر ایک قسم کی آزمائش ہونے لگی اور بہت جلد طبیعت آئندہ کے لئے ہوشیار ہو چلی ۔ تجارت پیشہ میں بھی ایک شمار ہونے لگا اور کچھ عزت اور وقار کی نظر سے ابنائے جنس میں دیکھا جانے لگا اور بمصداق ع تکیه بر جائے بزرگان نتواں زد بگزاف مگر اسباب بزرگی ہمہ آماده کنی ہر ایک موقعہ اور محل کا فہم گویا خدا سے ہی ملنے لگ گیا اور کوئی ایک برس کے بعد مدراس جانے کی نوبت پیش آگئی ۔ والد مرحوم کا بعد حج شاید دوسرے یا تیسرے دن مکہ معظمہ میں انتقال ہو گیا اور بڑا سخت صدمہ اس حادثہ سے دل کو پہنچا جس کو یہ عاجز اب تک نہیں بھولا ۔ غرض اس حادثہ جانکاہ کے بعد میرا بھائی بنگلور آ گیا اور مجھے وہاں جانا پڑا۔ بعد پہنچنے کے میرے چچا زاد بڑے بھائی جو وہاں موجود تھے صرف دو یا تین دن رہے اور بنگلور کو روانہ ہو گئے ۔ ان کی اس حرکت سے سخت حیرانی ہوگئی یعنی ایک تو میں بالکل نیا اور پھر ہر ایک طرح سے نو آموز ۔ دفتر وغیرہ لکھنے کی بالکل تمیز نہ تھی اور نہ کسی اہل معاملہ سے شناسائی کروائی اور نہ کچھ زبان سے کہا اور کیا تو یہ کیا کہ چلنے پر آمادہ ہو گئے اور یہاں مجھے گویا قیامت کا سامنا ہو گیا ۔ ہزاروں کا لین دین اور کچھ بھی خبر ندارد۔ مگر کیا ہو سکتا تھا بجز اس کے که قهر در ویش بر جان درویش کبھی تو گھبرا کر رو پڑتا تھا اور کبھی دفتروں کو پاس رکھ کر ساری ساری رات غور کیا کرتا تھا ۔ اس وقت ایک مدراسی مسلمان ہمارے کام میں تھے جن کو کام و کاج کا کچھ تجربہ تھا ان سے مجھے مددملتی رہی ۔ غرض یہ کہ ان سب باتوں پر میں بہت جلد حاوی ہو گیا اور پھر معاملہ کے