مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 421 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 421

مکتوبات احمد ۴۲۱ جلد دوم لئے مجھے کی لکھوائی ہوئی ادعیہ میں سے ایک ابھی تک میرا دستور العمل ہے لیکن بعد اس کے بہت جلد میری شادی ہوئی ۔ میری عمر کا شاید چودہواں سال ہوگا جو میری یہ تقریب ہوئی۔ اور میری حالت اس ۔ وقت تک یہ تھی کہ میں اس کی غرض وغیرہ سے بالکل نا آشنا تھا۔ یعنی کچھ بھی خبر نہ تھی کہ شادی سے غرض کیا ہوتی ہے۔ غرض بعد شادی کے بھی مجھے زیادہ اُنس مسجد اور اچھے لوگوں کی صحبت سے رہی ۔ اگر چہ ایک حد تک دوکانداری بعد شادی کے ضروری امر ہو گیا مگر میں اس کے واسطے کچھ پرواہ نہیں کرتا تھا۔ میری بیوی اس وقت کبھی میرے پاس رہتی تھی کبھی میکے میں گزارتی تھی ۔ اکثر عادت ایسی تھی کہ ایک ہفتہ یہاں اور ایک ہفتہ وہاں ان کا گزرتا تھا۔ مگر میری یہ حالت رہتی تھی کہ جب وہ میکے میں ہوتی تھیں تو میں بڑا خوش رہتا تھا۔ چونکہ کمرہ خالی ہوتا اور میں مصلے ہی پر صبح کرتا تھا اس اس تنہائی میں ایک خاص لطف معلوم ہوتا تھا۔ میرے سسرال کو چند روز کے لئے سفر در پیش آیا اور انہوں نے میری بی بی کو ساتھ لے جانا چاہا اور میرے والدین سے اس امر کی درخواست کی اور ان کو یہ بات نا پسند تھی مگر میری یہ خواہش تھی کہ اگر یہ اجازت دے دیں تو مجھے ایک عرصہ تک تنہائی میسر رہے گی ۔ غرض ایسا ہی ہوا اور مجھے تنہائی میسر ہو گئی اور میں اس تنہائی میں اپنے شغل میں لگا رہتا تھا اور کچھ کچھ باطنی صفائی بھی مجھے محسوس ہوتی تھی اور اچھے اچھے خواب بھی آتے تھے۔ دیوان حافظ وغیرہ ایسی کتابوں کے ساتھ مجھے خاص رغبت رہتی تھی اور میں وہ دن بڑی خوشی اور ذوق کے ساتھ گزارتا تھا۔ غرض جیسا کہ میں او پر لکھ آیا ہوں یعنی دو تین سال میرے اسی طرح گزرے اور اس کے بعد میرے چھوٹے بھائی زکر یا مرحوم کی شادی ٹھہری اور میرے والد اس سے بہت محبت کیا کرتے تھے اور اس کو بہت ہی چاہتے تھے کیونکہ جیسے وہ کمال درجہ کے شکیل تھے ویسے ہی ذکی الطبع بھی تھے ۔ پس ان کی شادی اس وقت کے رسم و رواج کے موافق بڑی دھوم دھام سے ہوئی ۔ جب اس شادی سے فراغت پا چکے تو انہوں نے حج بیت اللہ کا ارادہ فرمایا اور اس اثنا میں ہماری دوکان مدراس میں الگ شروع ہو گئی جو اس سے پیشتر چند شرکاؤں میں چلتی تھی ۔ اب سب شرکاء نے اپنی اپنی جدا جدا دوکانیں کھول کر مشتر کہ دوکان کو بند کر دیا۔ اس مشترکہ دوکان میں چار شریک تھے جن کی اب چار دوکانیں ہوگئیں ۔ والد مرحوم نے مجھ کو اور زکریا مرحوم کو یہاں چھوڑا اور باقی سب کو ہمراہ لے کر بیت اللہ شریف کو راہی ہو گئے اور یہاں دو بھائی ہم اور ہمارے دو چچا زاد بھائی تھے جو بڑی عمر کے