مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 420
مکتوبات احمد ۴۲۰ جلد دوم قرآت اور خوش الحانی پر مطلع ہونے کا پہلا اتفاق ہوا۔ جوں جوں نماز پڑھتا تھا اور ساتھ سات نا اور ساتھ ساتھ طبیعت کو ان کی طرف میلان ہوتا گیا اور پھر تو میرے وقت کا کچھ کچھ حصہ ان کی صحبت میں بھی گزرتا رہا۔ چونکہ وہ بزرگ، نہایت درجہ کے متقی ، پارسا ، تہجد گزار اور منکسر المزاج تھے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے میں ایک لذت بھی محسوس ہوتی تھی بایں سبب ان پر میرا حسن ظن بڑھتا گیا اور اکثر وہ ہمارے ہاں بھی مہمان رہتے جب تک ان کا قیام ہوتا ۔ چونکہ اس ناچیز کے والدین ، خدا ان کو مغفرت کرے، اس کا ہوتا۔ ، بات کو نہایت عزیز رکھتے تھے تو میرے لئے یہ بات بہت آسان ہو جاتی تھی کہ جب کبھی کوئی اور عالم یا کوئی اور اعلیٰ درجہ کے آدمی وہاں آجاتے تو ہرگز ہمارے مہمان ہوئے بغیر رخصت نہ ہوتے تھے ۔ اور یہ اس زمانہ کا ذکر ہے کہ اس ناچیز کو کاروبار دنیا سے کچھ معلوم نہ تھا۔ مسجد اور مدرسہ اور کبھی کبھی اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیل تماشہ سیر کرنے میں بھی وقت گزرتا تھا۔ غرض جیسا کہ والدین کی عادت ہوا کرتی تھی بڑے دنوں یعنی مشہور تہواروں میں لڑکوں کو کچھ دے دیا کرتے ہیں جیسا کہ عیدین وغیرہ کو اور ایسا ہی بعض دوسرے موقعوں پر اور ہمارے ہاں عموماً یہ بھی عادت ہے کہ دوسرے رشتہ دار بھی ایسے موقعوں پر کچھ نہ کچھ نقدی بطور عیدی دے دیا کرتے ہیں تو اس ناچیز کے پاس ایسی تقریبوں کے جمع کئے ہوئے کوئی دس بارہ روپے تھے اور اس کو بڑی احتیاط سے اپنے پاس رکھتا تھا یعنی کسی کو اس کی خبر نہ تھی۔ میں خاص اپنے صندوق میں رکھا کرتا تھا۔ غرض ایک وقت مولوی صاحب مذکور حسب عادت تشریف لائے اور میں ان کو کھانا کھلانے کے واسطے مکان پر لے گیا۔ چونکہ وہ کوئی وقت کھانے کا نہ تھا تاہم میری والدہ نے جھٹ پٹ تھوڑی روٹی اور سالن تیار کر لیا اور بہت جلد مولوی صاحب کے روبرو پیش کر دیا۔ معلوم ہوتا ہے اس وقت ان کو اشتہا بھی زیادہ تھی یعنی کھانا کھانے کے بعد ۔ دعائے خیر معمول سے زیادہ ان سے صادر ہوئی اور ان کی حالت ظاہری سے کچھ ایسا بھی محسوس ہوتا تھا کہ ان کو کچھ اور بھی احتیاج ہے اور میں نے وہ مبلغ جو اس عمر تک جمع کیا ہوا تھا تمام و کمال مولوی صاحب کے نذر کر دیا اور شاید آج تک اس کی کسی کو خبر نہیں ہے اور مجھے یہ واقعہ اب تک اچھی طرح سے یاد ہے۔ اس کے بعد مولوی صاحب بہت ہی محبت اور شفقت فرماتے رہے اور چونکہ ایک صوفی منش بھی تھے کچھ کچھ ذکر اور اوراد مجھے سکھلانے لگے اور میں بھی ان کی ہدایت بموجب کرتا رہا۔ چنانچہ ان