مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 419
مکتوبات احمد ۴۱۹ جلد دوم آپ بیتی حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدارسی حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کے نام کے مکتوبات کے بعد میں اس مضمون کو درج کر دینا ضروری سمجھتا ہوں جو سیٹھ صاحب نے حضرت حجتہ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد عالی کے ماتحت لکھا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اسے الحکم میں چھاپ دوں چنانچہ وہ الحکم میں چھپ گیا تھا ۔ حضرت سیٹھ صاحب کی اس یادگار تھا۔ کے ساتھ اس کا اندراج بہت ضروری ہے ۔ ( عرفانی ) حضور اقدس امام همام علیہ السلام ! اس ناچیز کی ابتدائی عمر ہی سے قسم قسم کے لوگوں سے ملاقات رہی ہے۔ مگر جس گروہ کے ساتھ جب ملاقات ہوتی ابتدا تو ایک دلی جوش سے ہوا کرتی تھی اور اس ناچیز کو بڑی محبت اس سے رہا کرتی ۔ لیکن جب کبھی کسی قسم کی کوئی منافقانہ حرکت ایسے ملا قاتی سے مشاہدہ میں آتی تو میرا دل رنج و غم سے بھر جاتا اور سخت صدمہ پہنچتا۔ میری صحبت اور ملاقات زیادہ تر اور خصوصیت کے ساتھ علماء اور صلحاء سے رہتی اور بجائے خود میں تقویٰ اور طہارت کو بھی فی الجملہ پسند کرتا تھا ۔ چنانچہ میری ابتدائی عمر کی ایک کیفیت یہ ہے کہ ایک بزرگ غالباً وہ خراسانی تھے۔ بنگلور کے قریب ایک مقام میں جس کو لاگر کہتے ہیں سکونت رکھتے تھے اور ان کا نام و دود میاں تھا۔ چونکہ خراسانی گھوڑوں کے سوداگر وہاں قیام کرتے تھے اور سرکاری گھوڑوں کی خریداری بھی وہاں ہی ہوا کرتی تھی اس لئے ان کا قیام اسی جگہ رہتا تھا اور کبھی کبھی بنگلور بھی آجایا کرتے تھے ۔ ایک نوجوان خوش رو اور دوسرے تقویٰ اور پر ہیز گاری میں بھی کامل تھے اور اس وقت ان کا سن بھی کوئی پچاس کے قریب ہوگا مگر قرآت بہت ہی اچھی پڑھتے تھے اور بڑے ہی خوش الحان تھے ۔ جب کبھی ان کا آنا بنگلہ بنگلور میں : تھا تو جامع مسجد میں آکر فروکش ہوا کرتے تھے اور اس ناچیز کے وقت کا ایک حصہ اسی مسجد میں گزرتا تھا۔ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ مولوی و دود میاں صاحب نے نماز عشاء پڑھوائی اور یہ گویا ان کی ۔ ہوتا