مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 417
مکتوبات احمد ۴۱۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۹۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ و آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں آپ کے لئے بہت دعا کی جاتی ہے اور یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو ضائع ہونے سے بچالے گا ۔ وہ کریم رحیم ہے ۔ آپ کا اپنی جماعت کے ساتھ اختلاط اور مصالحت یہ آپ کی رائے پر موقوف ہے۔ اگر ایسی مصالحت میں کوئی امر معصیت اور گناہ کا درمیان نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فی الصلح خير ورنہ اس وقت تک صبر کرنا چاہئے جب تک خدا تعالیٰ خود آسمان سے کوئی صورت بہبودی پیدا کر دے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ انسان اپنی کمزوری اور بے صبری سے آنے والی رحمت سے منہ پھیر لیتا ہے ورنہ خدا تعالیٰ کے وعدے سچے ہوتے ہیں ۔ وہ ضرور وقت پر اپنی تمام باتیں پوری کر دیتا ہے، قادر ہے اور کریم ہے ۔ صبر سے ایک حد تک تلخی اٹھانا موجب برکات ہے ۔ مگر یہ کام بڑ خوش قسمت انسانوں کا ہے جن کو خدا تعالیٰ پر بہت بھروسہ ہوتا ہے ۔ جو کبھی تھکتے نہیں ۔ آخر خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا یعنی ہم نے نبیوں کو وعدہ مدد اور فتح کا دیا، پھر مدت تک اس وعدہ کو التوا میں ڈال دیا یہاں تک کہ مومنوں نے خیال کیا کہ خدا نے جھوٹ بولا اور جھوٹا وعدہ دیا اور اس کے کچھ آثار بھی ظاہر نہ ہوئے بڑے مگر آخر وقت پر وہ وعدہ پورا ہوا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر یہ خوف کا مقام ہے کہ کچی طبیعت والوں پر یہ حالت بھی آجاتی ہے کہ وہ تھک کر خدا کے وعدہ کو بدظنی سے دیکھنے لگتے ہیں اور جھوٹ خیال کرتے ہیں ۔ نہایت خوش قسمت وہ شخص ہیں جن میں تھکنے کا مادہ نہیں ، گویا ان میں پیغمبروں کی روح ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کو قسم دے کر گواہوں کے ساتھ یہ یقین دلایا گیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا مگر خدا کے وعدے میں وہ شک نہ لائے اور چوبیس برس کے قریب مدت گزر گئی، خدا کے وعدے نے کچھ بھی ظہور نہ کیا یہاں تک کہ گھر کے لوگ بھی حضرت یعقوب کو دیوانہ کہنے لگے ۔ لیکن آخر کار وہ سچا نکلا ۔ غرض سب کچھ انسان کر سکتا ہے لیکن صادق مومنوں کی طرح صبر کرنا ا يوسف : ااا