مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 415

مکتوبات احمد ۴۱۵ جلد دوم دنیا تو خود روزے چند اور بے اعتبار ہے۔ ایک خدا ہی ہے جس سے خوشی ہے۔ وہ قادر ہے اور بلا شبہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آج میں نے خواب دیکھا کہ بعض آفات تین بھینسوں کی شکل پر میرے مارنے کے لئے آئیں اور میں ایک کو چہ سربستہ میں کھڑا ہوں ۔ ایک بھینس کو میں نے مار کر ہٹا دیا اور دوسری کو بھی ہٹایا ۔ لیکن تیسرا بھینسا ایک نہایت خبیث اور شریر اور مست معلوم ہوتا ہے ۔ اب وہ کوچہ سر بستہ میں بفاصلہ قریباً دو بالشت کے کھڑا ہے اور سخت حملہ کے لیے تیار ہے اور بھاگنے کی راہ بند کر دی ۔ اس وقت موت کا سامنا معلوم ہوتا تھا کہ کسی طرح مخلصی نہیں ، ہلاکت ہے۔ تب خدا کی قدرت سے دوسری طرف اس کا منہ ہوا مگر وہیں کھڑا رہا۔ میں غنیمت سمجھ کر اس کے حلقے میں سے نکل آیا اور وہ پیچھے دوڑا ۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ کلام پڑھ اس سے نجات پائے گا اور وہ کلام یہ ہے۔ رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِى وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي - ترجمہ۔ اے میرے رب ! ہر ایک چیز تیری خادم ہے، اور تیرے حکم میں ہے مجھے ہر ایک بلا سے نگہ رکھ اور مدد دے اور رحم کر۔ میں یہ دعا پڑھتا جاتا تھا اور دوڑتا تھا۔ تب میرے دل میں ڈالا گیا کہ بلا دفع ہو گئی اور نیز میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ خدا کا اسم اعظم ہے جو شخص صدق دل سے اس کو پڑھے گا وہ نجات پائے گا لے اس لئے میں لکھتا ہوں کہ آپ بھی ہر نماز میں ، رکوع میں ہجود میں اور بعد فاتحہ اور دوسری سورہ کے بعد اگر دوسری سورت بھی فاتحہ کے ساتھ ہوضرور پڑھیں اور تذلل اور معجز سے پڑھیں اور خدا تعالیٰ کے فضل پر پوری امید رکھیں ۔ وہ قوی و قا در خدا ہے ، ایک دم میں جو چاہے کر دے۔ انسان کو اس رحیم و کریم اور قادر سے نا امید نہیں ہونا چاہئے ۔ جو شخص ناامید ہوا وہ جہنم میں گیا ۔ اگر ہماری جلد ہمارے بدن پر سے الگ کر دی جائے اور ایک آہنی تنور میں ڈال دیا جائے تب بھی ہم اس خدا سے نا امید نہیں ہو سکتے ۔ ہمارے لئے ابراہیم کا نمونہ کافی ہے جس نے خدا کی مرضی حاصل کرنے کے لئے اپنے بیٹے کی گردن پر چھری رکھ دی اور آنکھیں بند کر کے اپنی دانست میں ذبح کر دیا مگر آج اسی ذبح کردہ کی اس قدر اولاد کہ ہم ان کو گن نہیں سکتے ۔ خدا بے وفا نہیں ، انسان خود بے وفا بنتا ہے۔ خدا غدار نہیں ، انسان خود غدر کرتا ہے۔ خدا ہرگز اپنے وفادار کو نہیں چھوڑ تا مگر بد بخت انسان خود چھوڑتا ہے۔ تب دنیا اور دین دونوں اس کے تباہ ہو جاتے ہیں ۔ ا تذکرہ صفحہ ۳۶۳ ایڈیشن چہارم