مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 414
مکتوبات احمد ۴۱۴ جلد دوم مکتوب نمبر ۹۲ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ علالت طبع عزیزی سیٹھ احمد صاحب کی خبر سن کر تفکر ہوا ۔ اللہ تعالیٰ جلد تر شفا کلی عطا فرماوے آمین ۔ اس جگہ بفضلہ تعالی تا دم تحریر سب خیریت ہے۔ برابر دعا کی جاتی ہے ۔اس نواح میں طاعون تو ہے لیکن بفضلہ تعالیٰ ابھی کچھ زور نہیں اکثر بیمار ا چھے بھی ہو جاتے ہیں ۔ سنا گیا ہے کہ امرتسر میں طاعون دن بدن چمکتی جاتی ہے۔ معلوم نہیں کہ طاعون سے خدمت مفوضہ لینا کس مدت تک حضرت احدیت کا ارادہ ہے ۔ باقی سب خیریت ۔ امید ہے کہ آپ جلد تر وہاں سے روانہ ہوں گے یا شاید یہ خط وہاں نہ مل سکے قادیان واپس آکر ملے۔ والسلام ۲۶ اکتوبر ۱۹۰۲ء *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔* مکتوب نمبر ۹۳ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ مجھ کو ملا ۔ آپ بہت مضبوطی سے اپنی استقامت پر قائم ہیں کیونکہ جو آپ کے لئے کوشش کی گئی ہے وہ ضائع نہیں جائے گی ، ضرور ہے کہ اوّل یہ ابتلا انتہاء تک پہنچ جائے ، عُسر کے ساتھ ٹیسر ہوتی ہے اور غم کے بعد خوشی ۔ ایسا نہ ہو کہ آپ بشریت کے وہم سے مغلوب ہو کر سلسلہ امید کو ہاتھ سے چھوڑ دیں کہ ایسا کرنا دعا کی برکت کو کم کر دیتا ہے۔ میں بڑی سرگرمی سے آپ کے لئے مشغول ہوں مگر قریباً پندرہ روز سے ریزش کی شدت سے بیمار ہوں اور ضعف بہت ہے اس لئے میں خط لکھنے سے مجبور و معذور رہتا ہوں ۔ اکثر باعث ضعف میرے دل پر ایسے عوارض کا ہجوم ہوتا ہے کہ میں بہت کمزور ہو جاتا ہوں مگر بہر حال آپ کو بھولتا نہیں ۔ مومن کی بڑی قسمت یہ ہے کہ وہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور اس کے فضل پر بھروسہ رکھتا ہے جو شخص خدا سے نا امید ہوتا ہے وہ مومن نہیں ہوتا ۔