مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 410

مکتوبات احمد ۴۱۰ جلد دوم مکتوب نمبر ۸۸ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ دو عنایت نامہ پہنچا۔ غم واندوہ کی کثرت اور بارگران قرضہ اگر چہ ( لفظ پڑھے نہیں جا سکے ) ایسی حالت میں جبکہ انسان اپنی کمزوری اور بے سامانی اور عدم موجودگی اسباب کا مطالعہ کر رہا ہو، بہت آزاردہ چیز ہے لیکن پھر اگر دوسرے پہلو میں کہ ” خدا داری چه غم داری سوچا جائے تو ایسے غم گو بہت مجبوریوں کے ساتھ لاحق ہوں تا ہم ایک غفلت کا شعبہ ثابت ہوں گے یعنی قادر حقیقی کی عجائب در عجائب قدرتوں پر ایمان نہیں ہوتا، جو ہونا چاہئے ۔ یہ خیال در حقیقت ایک تسلی اور شکر اور ہزار ہا امیدوں کے سلسلہ کا موجب ہے کہ ہمارا خدا قادر خدا ہے اور مجیب الدعوات ہے ۔ اس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں ۔ یہ ایسی باتیں نہیں ہیں کہ محض طفل تسلی کے طور پر دل خوش کن باتیں ہوں بلکہ اگر دنیا میں نجات کے لئے یہ راہ کشادہ نہ ہوتی تو بیکسی کی زندگی سے مرنا بہتر تھا۔ یہ سچا نسخہ کیمیا کا ہے جو ہمارا ایک خدا ہے جو تمام باتوں پر قادر ہے۔ خدا تعالی آپ کو اس قادر خدا کے دونوں قسموں کے فیضوں سے پورے طور پر متمتع فرماوے ۔ آمین ۔ باقی سب طرح خیریت ہے ۔ خدا آپ کا حافظ ہو ۔ زیادہ خیریت ۔ ۳۱ را گست ۱۹۰۲ء والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆