مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 408 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 408

مکتوبات احمد لد ٧٠ جلد دوم گی ۔ ایسا ہی وہ شخص جو یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا وہ بلا شبہ ضائع نہیں ہوگا۔ غم تب آتا ہے جب ایمان جاتا ہے۔ ایک تو بشریت کا غم ہے اس میں تو ایک حد تک انسا ہے جب کہ کسی کی موت پر غم آتا ہے اس میں تو انبیاء بھی شریک ہوتے ہیں جب کہ حضرت یعقوب ، پر یوسف کی جدائی میں چالیس برس تک روتے رہے ۔ وہ بشریت کا غم تھا ۔ مگر ایک ضعف ایمان کا غم ہوتا ہے جیسا کہ کوئی نادان یہ غم کرے کہ اب میرا کیا حال ہوگا ، کیونکر مجھے روٹی اور کپڑا ملے گا۔ عیال کا کیا حال ہوگا ۔ اس غم سے اگر انسان تو بہ نہ کرے تو کافر ہو جاتا ہے کیونکہ اپنے رازق کا منکر ہے ۔ دعا کا سلسلہ خوب سرگرمی سے جاری ہے۔ ہر ایک ساعت خدا تعالیٰ کے فضل کی امید ہے۔ ار جولائی ۱۹۰۲ء والسلام خاکسار ☆ میرزا غلام احمد علی اللہ عنہ مکتوب نمبر ۸۷ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ مجھ کو اس بات سے بہت خوشی ہوئی کہ برخلاف طبیعت کچے دنیا داروں کے جو ایک رنگ میں دہر یہ ہوتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے آپ کو استقامت بخشی ۔ یہ بڑی نعمت ہے بشرطیکہ دوسرے لوازم اطاعت بھی ساتھ ہوں ۔ مجھے بہت کم اتفاق ہوا ہو گا کہ آپ کے امر میں میں نے کبھی قسم کھائی ہو لیکن میں اس خدائے حتی وقیوم کی قسم کھاتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں نے اس قدر آپ کے لئے دعائیں کی ہیں کہ اگر وہ ایک درخت خشک کے لئے کی جائیں تو وہ بھی سبز ہو جائے اور ابھی میں تھکا نہیں ، جب تک وہ فرشتہ ظاہر نہ ہو کہ جو قضا و قدر کے امر کو ظاہر ہوتا ہوا دکھلائی دیتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی میرے ساتھ یہ عادت ہے کہ جب دعا انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو آخر الحکم ۷ رمئی ۱۹۱۸ ء صفحہ ۲