مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 407
مکتوبات احمد ۴۰۷ جلد دوم مکتوب نمبر ۸۶ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کی آپ پر ایک رحمت ہے کہ آپ نے میری اس نصیحت میں غفلت نہیں کی کہ خط برابر بھیجا جاوے اور میں جس قد ر خدا تعالیٰ کے عجیب اور خارقِ عادت فضلوں پر یقین رکھتا ہوں، کاش اگر کوئی ایسا طریق ہوتا کہ میں آپ کے دل میں بھی ڈال سکتا۔ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت اور قدرت کا تجربہ اگر ہو تو وہ اس حالت میں بھی انسان کو نا امید نہیں کر سکتا کہ جب انسان پابہ زنجیر زندان میں ہو۔ دیکھتا ہوں کہ دنیا کے اور اسباب سے سب امیدیں ہماری ٹوٹ چکی ہیں لیکن جب تک ہم قبر میں داخل ہو جائیں یہ امید ہماری ٹوٹنے کے قابل نہیں ہے کہ ہمارا خدا وہ خدا ہے جو ہر ایک بات پر قادر ہے۔ انسان کی طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ دو چار تجربہ سے خواص اشیاء پر یقین کر لیتا ہے مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ پانی ہمیشہ پیاس کو بجھاتا ہے اور روٹی ایک بھو کے انسان کو سیر کرتی ہے ، کسٹر آئل دست لاتا ہے ، سم الفار پوری خوراک پر ہلاک کر دیتا ہے۔ تو پھر خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم پر کیوں یقین نہ کریں جس کو ہم اپنی زندگی میں صدہا مرتبہ آزما چکے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ گھبراہٹ ضعف ایمان کے باعث ہوتی ہے۔ اگر کس کو یہ یقین ہو کہ میرا ایک خدا ہے جو مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا تو ممکن ہی نہیں کہ وہ غمگین ہو اور کیونکر غمگین ہو سکے ۔ انسان تو آدمی سے بھی تسلی پا کر غمگین نہیں ہوتا ۔ مثلاً اگر کسی کو لاکھ دو لاکھ روپیہ کی ضرورت پیش آ جائے اور اس کے پاس ایک پیسہ نہیں اور وہ فکر ادا ئیگی میں مر رہا ہے اور کوئی رفیق نہیں تو غم سے ہلاک ہو جائے گا۔ جس طرح سرسید احمد خان ایک لاکھ روپیہ کے غم سے دنیا سے کوچ کر گئے ۔ لیکن اگر ایسے مضطرب آدمی کو کوئی دوست مل جائے جو ذات کا چوہڑا یعنی بھنگی ہے یا چمار ہے اور وہ بہت دولت مند ہو اور وہ اس کو تسلی دے کہ تو غم نہ کر کچھ دیر کے بعد یہ تمام روپیہ تیرا ادا کردوں گا اور اس کو یقین آجائے کہ اب بلا شبہ اپنے وعدہ پر یہ شخص تمام رو پید ادا کر دے گا تو قبل پہنچنے روپیہ کے جس قدر اس کو کشاکش ہو رہی ہے وہ اس کی نظر میں ایک معمولی ہو جائے گا اور چہرہ پر افسردگی نہیں رہے