مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 406
مکتوبات احمد ۴۰۶ جلد دوم مکتوب نمبر ۸۵ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ یہ سچ ہے کہ بنا ہوا کام بگڑنے سے اور وسائل معاش کے کم یا معدوم ہونے کی حالت میں بے شک انسان کو صدمہ پہنچتا ہے مگر وہ جو بگاڑتا ہے وہی بنانے پر بھی قادر ہے۔ پس دنیا میں شکستہ دلوں کے اور تباہ شدہ لوگوں کے خوش ہونے کے لئے ایک ہی ذریعہ ہے کہ اس خدائے ذو الجلال کو ایمانی یقین کے ساتھ یاد کریں کہ جیسا کہ وہ ایک دم میں تخت پر سے خاک مذلت میں ڈالتا ہے، ایسا ہی وہ خاک پر سے ایک لحظہ میں پھر تخت پر بٹھاتا ہے ۔ اس جگہ یہ کہنا کفر ہے کہ کیونکر اور کس طرح ؟ اور ایسے اوہام کا جواب یہی ہے کہ جس طرح ایک قطرہ نطفہ سے انسان کو پیدا کیا۔ أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ل نا بینائی اور شک اور بدظنی کی وجہ سے تمام دکھ پیدا ہوتے ہیں ورنہ وہ ہمارا خدا عجیب قادر بادشاہ ہے، جو چاہے کرے کوئی بات اس کے آگے آن ہونی نہیں اگر یقین کی لذت پیدا ہو جائے تو شاید انسان دنیا طلبی کے ارادوں کو خود ترک کردے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی لذت نہیں کہ اس بات کو آزما لیا جائے کہ در حقیقت خدا موجود ہے اور در حقیقت وہ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ وہ کریم و رحیم ہے ان لوگوں کو ضائع نہیں کرتا جو اس کے آستانہ پر گرتے ہیں ۔ ے جولائی ۱۹۰۲ء والسلام خاکسار میرزا غلام احمد ☆ البقرة: ١٠٧ احمد تشحید الا ذہان اکتوبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۴۲،۴۱