مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 405
مکتوبات احمد لد ٢٠ جلد دوم میں نے منہ کر لیا اور پھر جو میں نے دیکھا تو تیسری بلی نے اس چڑیا کا سر اپنے منہ میں لیا اور اس وقت مجھے خیال آیا کہ غالبا سر کھایا گیا ۔ اتنے میں چوتھی بلی نے اس چڑیا کو لیا اور زمین میں اسے رگڑا تب میں نے یقین کیا کہ چڑیا مر چکی اور سر کھا لیا گیا اور رگڑنے میں کئی دفعہ چڑیا زمین پر گر پڑی پھر ایک بلی نے چاہا کہ اس چڑیا کے گوشت میں کچھ حصہ لے ۔ اس نے اس چڑیا کو کھانے کے لئے اپنی طرف کھینچا شاید اس غرض سے کہ نصف پہلی بلی کے منہ میں رہے اور نصف آپ کھائے لیکن کسی سبب سے وہ چڑیا دونوں کے منہ سے نکل کر زمین پر جا پڑی اور گرتے ہی پھر کر کے اڑ گئی۔ چاروں کے منہ سے نقل کرے بلیاں پیچھے دوڑیں مگر پھر کیا ہو سکتا تھا وہ کسی درخت پر جا بیٹھی اور بلیاں خائب و خاسر واپس آئیں ۔ اس واقعہ کو دیکھ کر میرے دل کو بہت جوش آیا کہ اس طرح خدا تعالی دشمنوں کے ہاتھ سے چُھڑاتا ہے۔ تب میں نے یہ خیال کر کے کہ یہ وقت بہت مقبول ہے ، آپ کے لئے بہت دیر تک دعا کی کہ اے خدائے قادر ! جس طرح تو نے اس عاجز چڑیا کو چار خونی دشمنوں سے چھڑایا اسی طرح اپنے عاجز بندہ عبدالرحمن کی جان بھی چھڑا ۔ آمین ۔ امید رکھتا ہوں کہ وہ دعا بھی خالی نہیں جائے گی ۔ ۳۰ / جون ۱۹۰۲ء والسلام خاکسار مرز اغلام احمد تشخیذ الاذہان اکتوبر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۴۲