مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 403
مکتوبات احمد لده الله جلد دوم مکتوب نمبر ۸۳ مخدومی مکرمی اخویم سیٹھ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ عنایت نامہ پہنچا۔ موجودہ حالات سے آپ دلگیر نہ ہوں اور نہ کسی گھبراہٹ کو اپنے دل تک آنے دیں۔ میں اپنی دعاؤں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ہرگز خطا نہیں جائیں گی ۔ اگر ایک پہاڑ اپنی جگہ سے مل جائے تو میں اس کو ممکن مانتا ہوں مگر وہ دعا ئیں جو آپ کے لئے کی گئی ہیں وہ ٹلنے والی نہیں ۔ ہاں میرے خدائے کریم و قدیر کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ارادوں کو جو دعاؤں کی قبولیت کے بعد ظاہر کرنا چاہتا ہے اکثر دیر اور آہستگی سے ظاہر کرتا ہے تا جو بد بخت اور شتاب کار ہیں وہ بھاگ جائیں اور اس خاص طور کے فیض کا انہیں کو حصہ ملے جو خدا تعالیٰ عزوجل کے دفتر میں سعید لکھے گئے ہیں ۔ اس لئے میں آپ کو کہتا ہوں کہ صبر سے انتظار کریں ایسا نہ ہو کہ آپ تھک جائیں اور وہ جو آپ کے لئے تخم بویا گیا ہے وہ سب برباد ہو جائے ۔ دنیا جلد تر آسمانی سلسلہ سے منہ پھیر لیتی ہے کیونکہ وہ نہیں جانتی کہ ایک خدا ہے جو ایک خاک کی مٹھی کو سرسبز کر سکتا ہے ۔ اگر خدائے عزوجل کا آپ کے حق میں کوئی نیک ارادہ نہ ہوتا تو مجھے آپ کے لئے اس قدر جوش نہ بخشا۔ یہ مت خیال کرو کہ بر بادی در پیش ہے یا بکلی ہو چکی ہے بلکہ اس خدا پر ایمان لاؤ جو ایک مردہ نطفہ سے انسان کو پیدا کر دیتا ہے۔ اور یہ باتیں محض قیاسی نہیں بلکہ ہم اس خدا کی قدرتوں اور معجزوں کے نمونے دیکھ چکے ہیں جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔ اور انسان میں خامی اور بید لی صرف اسی وقت تک رہتی ہے جب تک اس قادر کریم کا کوئی نمونہ نہیں دیکھا ہے لیکن نمونہ دیکھنے کے بعد وہ قادر خدا اس شے سے زیادہ پیارا ہو جاتا ہے جس کو طلب کیا گیا تھا۔ اس وقت یہ خدا کو تمام چیزوں پر مقدم رکھ لیتا ہے اور پھر عمر بھر دوسری چیز کے ہونے یا نہ ہونے پر کبھی غم کرتا ہی نہیں کیونکہ اب وہ اپنے خدا کو ایک خزا نہ جانتا ہے جن میں تمام جواہرات ہیں ۔ اسی کے موافق مثنوی رومی میں ایک حکایت لکھی ہے کہ ایک عاشق تھا جو اپنے عشق میں نہایت بیتاب تھا۔ آخر ایک با خدا آیا اور اس نے اس کو مراد تک پہنچایا اور خدا کی طرف آنکھیں کھول دیں تب وہ اپنے اس جھوٹے معشوق سے برگشتہ ہو گیا اور اس مرد خدا کا دامن پکڑ لیا اور یہ کہا